بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 شوال 1445ھ 22 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

مروجہ کمیٹی(بی سی) کا شرعی حکم اور اس کے قواعد وضوابط


سوال

ہم کچھ لوگوں نے آپس میں مل کر ایک کمیٹی ڈالی ہے، جس کے بارے میں شرعی راہ نمائی مطلوب ہے کہ آیا یہ کمیٹی شرعاً درست ہے یا نہیں ؟اس کمیٹی کی  تفصیل اور شرائط و ضوابط درج ذیل  ہیں:

ہماری یہ کمیٹی مؤرخہ بیس اگست 2023 سے شروع  ہوکر20 مارچ 2026 تک   چلے گی،  جس میں 15 ممبران شریک ہوں گے،البتہ ہر ممبر دو افراد پر مشتمل ہوگا یعنی  ہرایک ممبر اپنا ایک  پارٹنر بھی  لائے گا،اور اس طرح اگر   ٹوٹل کمیٹی ممبران کو شمار کیا جاۓ تو پارٹنر کو ملا کر تمام ممبران کی تعداد 30 ہوجاۓ گی اور اگر صرف پارٹنر کو ہٹا کر اصل ممبران کو شمار کیا جاۓ تو پھر کمیٹی ممبران کی تعداد15 ہو جاۓ گی،(یعنی اصل ممبران بھی 15 ہیں اور پارٹنر بھی 15 ہیں )ہر ممبر ڈبل نمبر ڈالے گا اور  اس ڈبل نمبر میں ایک کمیٹی نمبر خود اس ممبرکا ہوگا، جب کہ دوسرا نمبر اس کے پارٹنر کا ہو گا اوریہ 15 پارٹنر  بھی ممبر شمار  ہوں گے۔

یہ سہولت باہمی مشورے سے اس لیے  رکھی  گئی ہےکہ جس ممبر کا نام بذریعہ قرعہ اندازی کمیٹی میں نکلے گا ،اسے پہلی کمیٹی دی جاۓ گی اور اگلی کمیٹی اس کے ساتھ موجود  پارٹنر کوبغیر قرعہ اندازی کے دی جائے گی،اگر  دونوں میں سے کوئی   ایک ساتھی اپنی مرضی سے اپنے دوسرے ساتھی کو اپنی کمیٹی دینا چاہے تو دے سکتا ہے،  نیز  ہر ایک ممبر اور اس کے پارٹنر پر  ماہانہ 30،30 ہزار روپے  اس مہینے کی 20 تاریخ تک   کمیٹی کے لیے جمع کروانے لازم ہوں گے، ہر دو ماہ بعد 15 تاریخ سے 20  تاریخ کے درمیان جو اتوار ہوگا اس دن کمیٹی کی  قرعہ اندازی کی جائے گی ،اور  باہمی اتفاقِ راۓ سے یہ طے کیا گیا ہے کہ جس ممبر کا قرعہ اندازی میں نام آۓ گا اس مہینے کی کمیٹی اسے دی جاۓ گی اور اس سے اگلے مہینے کی کمیٹی بغیر قرعہ اندازی کے  خود بخوداس کے پارٹنر کو دی جاۓ گی اور پھر دو مہینے بعد دوبارہ دوسرے ممبران کے حق میں قرعہ اندازی کی جاۓ گی ،اگر کوئی ممبر درمیان میں ہی  کمیٹی چھوڑنا چاہے تو اس کا پارٹنر متبادل ممبر دینے کا پابند ہوگا ۔

مذکورہ کمیٹی تقریبا ڈھائی سال دو ماہ تک محدود ہوگی، اور ڈھائی سال کے دوران جو رمضان المبارک کا مہینہ ہوگا تو اس مقدس مہینے اور عید الفطر کی وجہ سے اس مہینے وقفہ ہوگا، کمیٹی کا کوئی لین دین نہیں ہوگا۔

جواب

مذکورہ کمیٹی بھی  مروجہ کمیٹیوں کی طرح ایک عام کمیٹی ہے ،جس کی   بنیاد باہمی تعاون  و مواسات  پر ہے، اور اس میں جمع کرائی جانے والی قسطوں کی حیثیت قرض کی ہے، لہٰذا اس میں قرض سے متعلقہ تمام شرائط کو مد نظر رکھنا  شرعاًضروی ہے، چناں چہ اولاً مذکورہ کمیٹی سے متعلق   درج ذیل   شرعی قواعد و ضوابط کو سمجھ لیا جاۓ تاکہ  آئندہ جواب سمجھنے میں آسانی ہو:

شرط نمبر1: کمیٹی کے تمام ممبران  پر   قسطوں کی مد میں برابر برابررقم جمع کرانا لازم ہے، ایسا نہ ہو کہ کوئی ممبر زیادہ رقم دے اور کوئی شریک کم دے، مثلاََ بعض کمیٹیوں میں یہ طریقہ ہوتا ہے کہ جس کی کمیٹی نکل جاتی ہے، اس کی باقی قسطیں معاف ہوجاتی ہیں، اگر اس طرح کی کوئی  بھی کمیٹی ہو، تو وہ حرام اور ناجائز ہے، کیوں کہ یہ قرض پر مشروط نفع ہے، جو کہ سود ہے۔

شرط نمبر2: تمام شرکاء کو کمیٹی نکلتے وقت برابر اور پوری رقم دی جائے، ایسا نہ ہو کہ قصداً کسی کو اس کے مقررہ حصے سے کم یا زیادہ رقم دے دی جاۓ۔

شرط نمبر3: کمیٹی بولی لگا کر فروخت نہ کی جائے، بل کہ قرعہ اندازی کے ذریعے  تمام ممبران کےنمبر متعین کیے جاسکتے ہیں،مگر قرعہ کے نتائج کو لازم نہ سمجھا جاۓ بل کہ سب ممبران کی رضامندی سے  قرعہ اندازی کو کسی ایک ممبر کے انتخاب کا آسان ذریعہ سمجھا جاۓ۔

شرط نمبر4: قرض میں ایک ضابطہ یہ بھی ہے کہ قرضہ دینے والے کو یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی وقت اپنی قرض دی گئی رقم کا مطالبہ کر سکتا ہے، چاہے اس نے خود  قرض کی واپسی کے لیے ایک مخصوص مدت ہی کیوں نہ متعین کر دی ہو، لہذا کمیٹی کے ہر ایک ممبر  کو کسی بھی وقت اپنی دی ہوئی تمام رقم واپس لینے  اور کمیٹی سے علیحدہ ہوجانے کا پورا حق حاصل ہونا چاہیے، اوراس بات کو لازم نہ قرار دیا جاۓ کہ  ہر ممبر آخر تک ضرورشریک رہےگا،   اسی طرح کسی ممبر کے کمیٹی سے الگ ہونے پر  اس  پرکوئی جرمانہ وغیرہ  بھی عائد نہ کیا  جائے۔
5:  کوئی بھی ممبر رقم کے عوض کسی دوسرے  ممبر سے اس کا نمبر نہیں خرید سکتا، کیوں کہ   قرعہ اندازی کے ذریعے ممبران کے جو نمبر متعین کیے جاتے ہیں، وہ شرعاً لازم نہیں ہوتے، نہ ہی   وہ مقررہ نمبر اس ممبر  کا "شرعی حق"  ہوتے ہیں (جیسا کہ اس سے پہلے شرط نمبر :4 میں واضح کیا گیا ہے)، لہٰذا نمبرکے عوض وہ کسی سے کوئی رقم وصول نہیں کرسکتا۔ البتہ اگر کوئی ممبر اپنی رضامندی سے  اپنا نمبر کسی   اور ممبر کو  بلا عوض دینا چاہے، تو اس میں  کوئی حرج نہیں ہے۔

اگر مذکورہ بالا شرائط کی پاسداری کرتے ہوۓ کمیٹی ڈالی جاۓ تو درست ہے ، بصورتِ دیگر اگر   ذکر کردہ شرائط میں سے کسی  بھی شرط کی خلاف ورزی پائی جائے  تو ایسی صورت میں کمیٹی ڈالنا ناجائز اور سود  ہے۔

مذکورہ بالا تفصیلات  کے مطابق صورتِ مسئولہ میں باہمی رضامندی سےطے کی جانے والی کمیٹی کی ایک  شرط کے علاوہ باقی سب شرائط درست ہیں ،اور  وہ شرط کمیٹی سے الگ ہونے کی صورت میں  لازمی طور پر متبادل ممبر فراہم کرنا ہے ،لہٰذا  مذکورہ شرط   کوختم کرکے یہ طے کرلیا جاۓکہ اگر  علیحدہ ہونے والا ممبر اپنی رضامندی  سے  متبادل ممبر لانا چاہے تو لا سکتا ہے،كوئي لازمي نهيں هے ، بصورتِ دیگر مذکورہ کمیٹی شرعاً درست نہیں ہوگی۔   

قرآن کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

"وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ."

ترجمه:"اور نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے کی اعانت کرتے رہواور گناہ اور زیادتی میں ایک دوسرے کی اعانت مت کرو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرا کرو بلاشبہ اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والے ہیں. "

(بیان القرآن،444/1،ط: رحمانیہ)

فتاوی شامی میں ہے:

"(ولزم تأجيل كل دين) إن قبل المديون (إلا)...(القرض) فلا يلزم تأجيله."

(كتاب البيوع،‌‌باب المرابحة والتولية، 157،58/5،ط:سعيد)

تبیین الحقائق میں ہے:

"‌كل ‌قرض ‌جر منفعة فهو ربا، وتأويل هذا عندنا أن تكون المنفعة موجبة بعقد القرض مشروطة فيه، وإن كانت غير مشروطة فيه فاستقرض غلة فقضاه صحاحا من غير أن يشترط عليه جاز، وكذلك لو باعه شيئا، ولم يكن شرط البيع في أصل العقد جاز ذلك، ولم يكن به بأس إلى هنا لفظ الكرخي في مختصره، وذلك؛ لأن القرض تمليك الشيء بمثله فإذا جر نفعا صار كأنه استزاد فيه الربا فلا يجوز؛ ولأن القرض تبرع وجر المنفعة يخرجه عن موضعه، وإنما يكره إذا كانت المنفعة مشروطة في العقد، وإذا لم تكن مشروطة فيه يكون المقترض متبرعا بها فصار كالرجحان الذي دفعه - صلى الله عليه وسلم - في بدل القرض."

(كتاب الكراهية، ‌فصل في البيع،29/6، ط: دار الكتاب الإسلامي)

البحر الرائق میں ہے:

"القرعة ليست بحجة ويجوز استعمالها في تعيين الأنصباء لدفع التهمة عن القاضي ‌فصلحت ‌دافعة لا موجبة."

(كتاب الوصايا،باب الوصي وما يملكه،536/8،ط:دار الکتاب الإسلامي)

فتح القدیر میں ہے:

"ونحن لا ننفي شرعية ‌القرعة في الجملة بل نثبتها شرعا لتطييب القلوب ودفع الأحقاد والضغائن كما فعل - عليه الصلاة والسلام - للسفر بنسائه، فإنه لما كان سفره بكل من شاء منهن جائزا إلا أنه ربما يتسارع الضغائن إلى من يخصها من بينهن فكان الإقراع لتطييب قلوبهن، وكذا إقراع القاضي في الأنصباء المستحقة هو لدفع ما ذكرنا من تهمة الميل. والحاصل أنها إنما تستعمل في المواضع التي يجوز تركها فيها لما ذكرنا من المعنى."

(كتاب العتاق،‌‌باب عتق أحد العبدين،فصل ومن ملك ذا رحم محرم منه عتق عليه،493/4،ط:دار الفکر)

مبسوطِ سرخسی میں ہے:

"وإنما يجوز استعمال ‌القرعة عندنا فيما يجوز الفعل فيه بغير ‌القرعة كما في القسمة. فإن للقاضي أن يعين نصيب كل واحد منهم بغير قرعة فإنما يقرع تطييبا لقلوبهم، ونفيا لتهمة الميل عن نفسه وبهذا الطريق كان يقرع رسول الله - صلى الله عليه وسلم - بين نسائه إذا أراد سفرا؛ لأن له أن يسافر بمن شاء منهن بغير قرعة إذ لا حق للمرأة في القسم في حال سفر الزوج، وكذلك يونس صلوات الله عليه عرف أنه هو المقصود، وكان له أن يلقي نفسه في الماء من غير إقراع، ولكنه أقرع كي لا ينسب إلى ما لا يليق بالأنبياء، وكذلك زكريا - عليه السلام - كان أحق بضم مريم إلى نفسه؛ لأن خالتها كانت تحته ولكنه أقرع تطييبا لقلوب الأحبار."

  (كتاب العتق،باب لوجوه من العتق،76/7، ط: دار المعرفة)

فقط واللہ أعلم            


فتوی نمبر : 144501100153

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں