بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 شعبان 1445ھ 27 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

لیب والوں کا مریض سے وصول کردہ رقم میں سے آدھی رقم ڈاکٹر کو کمیشن کے طور پر دینا


سوال

 ایک ڈاکٹر صاحب مریضوں کو لیب میں جانچ کے لیے  بھیجتے ہیں تو ایک ہزار روپیہ جانچ کے پڑتے ہیں اور اگر مریض خود جائے تب بھی ایک ہی ہزار پڑیں گے، لیکن ڈاکٹر کے مریض بھیجنے پر اس ایک ہزار میں سے لیب کا مالک 500 روپیہ ڈاکٹر کودے دیتا ہے، اور اس میں ڈاکٹر کو یہ اختیار ہوتا ہے کہ اس ایک ہزار میں سے500 رعایت کرادے جس سے مریض کو بہت حد تک سہولت ہو جاۓ، بہرحال کیا وہ 500روپے ایک مسلم ڈاکٹر کے لیے استعمال کرنا جائز ہے ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جب مذکورہ لیب والے مریض سے ہزار روپے  چار جز لے کر پانچ سو روپے ڈاکٹر کو دیتے ہیں ،بالفاظ دیگر لیب چارجز پانچ سو روپے لیتے ہیں،تو لیب والوں کا مریض (جوکہ رعایت کا زیادہ حق دار ہے) کے ساتھ رعایت نہ کر کے خفیہ طور پر ڈاکٹر کو پانچ  سو روپے دینا یہ ڈاکٹر کے ضمیر کا سودا نہیں؟  جب کہ ڈاکٹر مریض کا معالج ہونے کے ساتھ مریض کی صحت کا امین بھی ہے،مریض ڈاکٹر کی رائے کو حرف آخر جانتا ہے ،ایسے حال میں لیب والوں کے خفیہ کمیشن پر ڈاکٹر کا لالچ میں آنا اور پھر مریض کو معیاری اور سستے لیب میں بھیجنے کے بجائے پانچ سوروپے  کی ترجیح دینا کوئی بعید نہیں ،بالخصوص ایسے معاشرے میں جہاں خدمت خلق کا جذبہ ماند پڑچکا ہے،خفیہ کمیشن کی وباء عروج پر ہے،انسان اپنے ہر قول ،فعل اور لمحہ کی بولی لگانے لگا،لہذا مذکورہ طریقہ نہ تو لیب والوں کے لیے ٹھیک ہے اور نہ ہی ڈاکٹر کے لیے بلکہ یہ طریقہ مریض کے ساتھ خیر خواہی کے نہ صرف خلاف ہے ،بلکہ ایک نوعیت کا دھوکہ ہے،جس سے بچنا چاہیے۔

حدیثِ پاک میں ہے:

"عن جرير بن عبد الله قال: بايعت رسول الله صلى الله عليه وسلم على إقام الصلاة وإيتاء الزكاة والنصح لكل مسلم. "متفق عليه

ترجمہ: ’’ حضرت جرير بن عبدالله رضى الله عنه فرماتے هيں كه میں نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات پربیعت کی کہ پابندی کے ساتھ نماز پڑھوں گا، زکوٰۃ ادا کروں گا، اور ہر مسلمان کے حق میں خیرخواہی کروں گا۔‘‘ 

(كتاب الآداب ،باب الشفقة و الرحمة، ج: 3، ص: 1387، ط: المكتبة الإسلامي)

حدیثِ پاک میں ہے:

"عن أبي هريرة رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "إن ‌الدين ‌النصيحة، إن ‌الدين ‌النصيحة، إن ‌الدين ‌النصيحة». قالوا: لمن يا رسول الله؟ قال: لله، ولكتابه، ولرسوله، ولأئمة المسلمين، وعامتهم".

ترجمہ: "حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دین سراسر خیر خواہی ہے،دین سراسر خیر خواہی ہے،دین سراسر خیر خواہی ہے،ہم نے ( یعنی صحابہؓ نے) پوچھا کہ یہ نصیحت اور خیر خواہی کس کے حق میں کرنی چاہیے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: اللہ کے لیے، اللہ کی کتاب کے لیے، اللہ کے رسول کے لیے، مسلمانوں کے ائمہ کے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے۔"

(کتاب البیعۃ، النصيحة للإمام، ج: 7، ص: 189، ط: مؤسسة الرسالة)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144403101361

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں