بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

کمر اٹکنے کی وجہ سے چار ماہ سے کم کا حمل ضائع کرنا


سوال

ایک عورت ہے جس کے حمل کو تقریباًپانچ چھ دن  ہوئے ہیں اور اس کے چار بچے ہیں، سب سے چھوٹا بیٹا ڈیڑھ سال کا ہے، حمل میں اس عورت کی طبیعت تھوڑی بہت خراب رہتی ہے، بس کچھ پرابلمز رہتی ہیں، پریگننسی میں کمر اٹک جاتی ہے جس کی وجہ سے اچانک اٹھنا بیٹھنا کھڑا ہونا مشکل ہو جاتا ہے،اب چھوٹے بچے میں اس طریقے سے تھوڑا مشکل ہے اور بچہ اکثر بیمار رہتا ہے، لیکن اس کا مسئلہ یہ ہے کہ چھوٹا بچہ ڈیڑھ سال کا ہے تو وہ بہت زیادہ تنگ کرتا ہے اور اس کے ساتھ تین بچے حفظ میں ہیں گھر میں وہ اپنے بچوں کو سبق خود یاد کرواتی ہے، چوتھے بچے کے وقت بھی بچوں کی پڑھائی کافی ڈسٹرب ہو گئی تھی جس کی وجہ سے وہ عورت دوائی کے ذریعےاپنا حمل ساقط کرنا چاہتی ہے،تو کیا وہ عورت اپنا حمل ساقط کرےگی تو وہ گناہ گار ہوگی؟

جواب

اگر حمل چار ماہ کا ہو جائے تو اسے ضائع کرنا کسی صورت میں جائز نہیں، اس لیے کہ حمل میں چار ماہ کی مدت کے بعد جان پڑجاتی ہے  اگر حمل چار ماہ سے کم کا ہو اور دین دار اورماہر ڈاکٹر یہ کہہ دے کہ بچہ کی پیدائش کی وجہ سے ماں کی جان کو یقینی یا غالب گمان کے مطابق خطرہ ہے یا ماں کی صحت حمل کاتحمل نہیں کرسکتی تو ایسی صورت میں اسقاط حمل کی گنجائش ہے۔ اگر معاشی خوف کی وجہ سے ہو تو اسقاط ناجائز ہے، اگر چہ حمل چار ماہ سے کم مدت کا ہو۔ اور شدید ضرورت نہ ہو تو چار ماہ سے کم مدت کا حمل بھی ساقط کرنا درست نہیں ہے۔

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ عورت کی معمولی طبیعت کی خرابی اور بچوں کو سبق یاد کرانے میں پریشانی حمل ساقط کرنے کے لیے عذر نہیں  ہے،اگر چہ حمل چار پانچ دن کا ہے،لہذا ایسی صورت میں حمل ساقط کرنے کی وجہ سے مذکورہ عورت گناہ گار ہوگی(خواہ چار ماہ سے پہلے یا چار ماہ کے بعد)،البتہ حمل کے دوران  کمر اٹک جانے کی وجہ سے کھڑے ہونے،اور اٹھنے بیٹھنے میں مشکل ہونے کی وجہ سے حمل ساقط کروانا چاہیے یا نہیں، اس حوالے سے  مذکورہ عورت کاکسی دین دار ماہر ڈاکٹر کو اپنی نوعیت بتلا کراُن سے مشورہ کرنا زیادہ مناسب ہوگا۔

       فتاوی عالمگیری میں ہے: 

"العلاج لإسقاط الولد إذا استبان خلقه كالشعر والظفر ونحوهما لايجوز، وإن كان غير مستبين الخلق يجوز، وأما في زماننا يجوز على كل حال، وعليه الفتوى، كذا في جواهر الأخلاطي. وفي اليتيمة: سألت علي بن أحمد عن إسقاط الولد قبل أن يصور؟ فقال: أما في الحرة فلايجوز قولاً واحداً، وأما في الأمة فقد اختلفوا فيه، والصحيح هو المنع، كذا في التتارخانية ….  امرأة مرضعة ظهر بها حبل وانقطع لبنها وتخاف على ولدها الهلاك وليس لأبي هذا الولد سعة حتى يستأجر الظئر يباح لها أن تعالج في استنزال الدم ما دام نطفةً أو مضغةً أو علقةً لم يخلق له عضو، وخلقه لايستبين إلا بعد مائة وعشرين يوماً: أربعون نطفةً وأربعون علقةً وأربعون مضغةً، كذا في خزانة المفتين. وهكذا في فتاوى قاضي خان".         

   (5 / 356، الباب الثامن عشر فی التداوی والمعالجات، کتاب الکراہیۃ، ط؛ رشیدیہ)

فتاوی شامی میں ہے:

"وقالوا: يباح إسقاط الولد قبل أربعة أشهر ولو بلا إذن الزوج.

(قوله: وقالوا إلخ) قال في النهر: بقي هل يباح الإسقاط بعد الحمل؟ نعم! يباح ما لم يتخلق منه شيء ولن يكون ذلك إلا بعد مائة وعشرين يوماً، وهذا يقتضي أنهم أرادوا بالتخليق نفخ الروح وإلا فهو غلط؛ لأن التخليق يتحقق بالمشاهدة قبل هذه المدة، كذا في الفتح. وإطلاقهم يفيد عدم توقف جواز إسقاطها قبل المدة المذكورة على إذن الزوج. وفي كراهة الخانية: ولا أقول بالحل إذ المحرم لو كسر بيض الصيد ضمنه؛ لأنه أصل الصيد، فلما كان يؤاخذ بالجزاء فلا أقل من أن يلحقها إثم هنا إذا سقط بغير عذرها اهـ قال ابن وهبان: ومن الأعذار أن ينقطع لبنها بعد ظهور الحمل وليس لأبي الصبي ما يستأجر به الظئر ويخاف هلاكه. ونقل عن الذخيرة لو أرادت الإلقاء قبل مضي زمن ينفخ فيه الروح هل يباح لها ذلك أم لا؟ اختلفوا فيه، وكان الفقيه علي بن موسى يقول: إنه يكره، فإن الماء بعدما وقع في الرحم مآله الحياة فيكون له حكم الحياة كما في بيضة صيد الحرم، ونحوه في الظهيرية قال ابن وهبان: فإباحة الإسقاط محمولة على حالة العذر، أو أنها لاتأثم إثم القتل اهـ. وبما في الذخيرة تبين أنهم ما أرادوا بالتحقيق إلا نفخ الروح، وأن قاضي خان مسبوق بما مر من التفقه، والله تعالى الموفق اهـ كلام النهر ح". 

(3 / 176، مطلب فی اسقاط الحمل، باب نکاح الرقیق، ط؛ سعید)

الموسوعة الفقهیة الکویتیة (۳۰/ ۲۸۵)"میں ہے:

"وذهب الحنفیة إلی إباحة إسقاط العلقة حیث أنهم یقولون بإباحة إسقاط الحمل ما لم یتخلق منه شيء ولم یتم التخلق إلا بعد مائة وعشرین یوماً، قال ابن عابدین: وإطلاقهم یفید عدم توقف جواز إسقاطها قبل المدة المذکورة علی إذن الزوج، وکان الفقیه علي بن موسی الحنفي یقول: إنه یکره فإن الماء بعد ما وقع في الرحم مآله الحیاة، فیکون له حکم الحیاة کما في بیضة صید الحرم، قال ابن وهبان: فإباحة الإسقاط محمولة علی حالة العذر أو أنها لا تأثم إثم القتل". 

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144505100354

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں