بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 جُمادى الأولى 1444ھ 29 نومبر 2022 ء

دارالافتاء

 

کمائی کا دس فیصد اللہ کی راہ میں دینے کی نیت کرنا


سوال

میں نے اللہ تعالی سے دعا کرکے وعدہ کیا تھا کہ اپنی کمائی کا دس فیصد اللہ تعالی کے راستے میں خرچ کروں گا، اب سوال یہ ہے کہ کیامیں ان پیسوں سے اپنی بہن کی مالی معاونت کرسکتا ہوں اگر وہ مالی طور پر کمزور ہے؟اس پر ظاہر کیے بغیر کہ یہ میری طرف سے ہے اس کو عمرہ پر بھیج سکتا ہوں؟ یا پھر اس دس فیصد پر صرف ایسے لوگوں کا حق ہے جن کو میں نہیں جانتا، میں روزانہ کی بنیاد پر اس دس فیصد میں سے اور لوگوں کی بھی خدمت کرتا رہتا ہوں۔ 

جواب

آپ مذکورہ رقم سے اپنی بہن کی معاونت بھی کرسکتے ہیں اور اسے عمرے پر بھی بھیج سکتے ہیں، الغرض مذکورہ رقم سے ہر ضرورت مند و محتاج  کی مدد کرسکتے ہیں چاہے وہ جاننے والا ہو یا جانے والا نہ ہو، تاہم رشتے دار کی مدد کرنے میں دُہرا اجر ہے، نیز جس کی مدد کی جارہی ہو اس پر  ظاہر کرنا بھی ضروری نہیں ہے۔

صحيح مسلم  میں ہے:

"عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌دينار ‌أنفقته في سبيل الله ودينار أنفقته في رقبة، ودينار تصدقت به على مسكين، ودينار أنفقته على أهلك، أعظمها أجرا الذي أنفقته على أهلك."

 (كتاب الزكاة،باب فضل النفقة على العيال والمملوك:2/ 692 ، رقم الحديث:995)

ترجمہ:’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک دینار اللہ تعالی کے راستے میں آپ کا خرچ کرنا اورایک وہ دینار ہےجو آپ نے غلام کی آزادی کے لیے خرچ کیا ، اورایک دینار وہ ہے جوآپ نے مسکین پر صدقہ کیا ، اورایک دینار وہ ہے جوآپ نے اپنے بیوی بچوں پر خرچ کیا ، ان میں سے سب سے زیادہ اجرو ثواب والا وہ ہے جوآپ نے اپنے اہل وعیال پرخرچ کیا ۔‘‘

فقط  واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144311101824

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں