بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 شوال 1441ھ- 01 جون 2020 ء

دارالافتاء

 

والدین کے مطالبہ پر کم گو بیوی کو طلاق دینا


سوال

 زید کی بی بی کی بچپن سے بہت کم بولنے کی عادت ہے، نتیجتاً سسرال میں بھی (ساس، سسر،نند اور دیور سے) کم باتیں کرتی ہے۔ لیکن دینی معاملہ اور اخلاق میں اچھی ہے، اور شوہر کے ساتھ اچھی محبت بھی ہے، نہ کوئی ان بن ہے نہ کوئی جھگڑا۔ اب اگر والدین زید سے یہ کہیں  کہ  تم اس کے ساتھ  زندگی بسر نہیں کر پاؤگے، لہذا اسے طلاق دے دو، ورنہ تمہارے ساتھ کوئی تعلق نہیں رہےگا۔ اب اس صورت میں زید کے لیے والدین کی اطاعت ضروری ہے؟

جواب

کم گفتگو کرنا اور ضرورت کے بقدر کلام کرنا شریعت میں مطلوب ہے، رسولِ کریم ﷺنے ایسے شخص کو اچھا مسلمان قرار دیا ہے جو فضولیات سے اپنے آپ کو بچاتا ہو۔اور زیادہ کلام اور گفتگو کی وجہ سے انسان لغزش میں مبتلا ہوتا ہے اور گناہ گار بنتا ہے۔

لہذا زید کی بیوی کا زیادہ کلام یاگھر کے افراد سے زیادہ گفتگو نہ کرنا شرعی اعتبار سے کوئی عیب نہیں ہے، اور نہ ہی اس سبب سے اسے طلاق دینے کی اجازت ہے، نیز دیور شرعاً غیرمحرم ہے، دیور کے ساتھ بلاضرورت گفتگو کی شرعاً اجازت ہی نہیں؛  لہذا کم گو ہونے کی بنا پر  والد یا والدہ کا بلاوجہ طلاق کا مطالبہ کرنا درست نہیں ہے۔جب کہ اخلاقی اعتبار سے بیوی سے والدین یا شوہر کو کوئی شکایت بھی نہیں۔ 

زید کے لیے اس صورت میں عورت کے کسی جرم کے بغیر اسے طلاق دینا جائز نہیں ہے، طلاق نہ دینے سے زید  والدین کا نافرمان اور گناہ گار نہیں ہوگا۔

والدین کو حکمت وبصیرت کے ساتھ شرعی حکم بتلایاجائے کہ طلاق اللہ کے ہاں جائز کاموں میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ ہے، اور شدید مجبوری کے بغیر طلاق کو اختیار کرنا مذموم ہے،  کوشش کی جائے کہ وہ اپنے اس مطالبہ کو ترک کردیں، ورنہ حکمت کے ساتھ انہیں سمجھاتارہے۔

حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
’’حدیثِ پاک کا منشا یہ ہے کہ بیٹے کو والدین کی اطاعت و فرماں برداری میں سخت سے سخت آزمائش کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے، حتیٰ کہ بیوی بچوں سے جدا ہونے اور گھر بار چھوڑنے کے لیے بھی۔ اس کے ساتھ ماں باپ پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بے انصافی اور بے جا ضد سے کام نہ لیں۔ اگر والدین اپنی اس ذمہ داری کو محسوس نہ کریں اور صریح ظلم پر اُتر آئیں تو ان کی اطاعت واجب نہ ہوگی، بلکہ جائز بھی نہ ہوگی۔ آپ کے سوال کی یہی صورت ہے اور حدیثِ پاک اس صورت سے متعلق نہیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ اگر والدین حق پر ہوں تو والدین کی اطاعت واجب ہے، اور اگر بیوی حق پر ہو تو والدین کی اطاعت ظلم ہے۔ اور اسلام جس طرح والدین کی نافرمانی کو برداشت نہیں کرسکتا، اسی طرح ان کے حکم سے کسی پر ظلم کرنے کی اجازت بھی نہیں دیتا‘‘۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109200584

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے