بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 صفر 1443ھ 17 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

کلمہ کفر کہنے سے اعمال ضائع ہونے کا حکم


سوال

کیا کلمہ کفر کہنے سے انسان کی نیکیاں ضائع ہو جاتی ہیں؟

جواب

ارادی طور پر کلمہ کفر کہنے سے انسان اسلام سے خارج ہوجاتا ہے، جس کی بنا پر اس کی  تمام عبادات اور نیکیاں ضائع ہوجاتی ہے۔

شرح النووي على مسلم میں ہے:

"قوله صلى الله عليه وسل: م(أن رجلا قال: والله لايغفر الله لفلان، و إن الله تعالى قال: من ذا الذي يتألى علي أن لاأغفر لفلان! فإني قد غفرت لفلان، و أحبطت عملك) معنى يتألى يحلف والألية اليمين، و فيه دلالة لمذهب أهل السنة في غفران الذنوب بلا توبة إذا شاء الله غفرانها، و احتجت المعتزلة به في إحباط الأعمال بالمعاصي الكبائر، و مذهب أهل السنة أنها لاتحبط إلا بالكفر، و يتأول حبوط عمل هذا على أنه أسقطت حسناته في مقابلة سيئاته و سمي إحباطًا مجازًا، و يحتمل أنه جرى منه أمر آخر أوجب الكفر، و يحتمل أن هذا كان في شرع من قبلنا و كان هذا حكمهم."

(کتاب البرّوالصلۃ والآداب، باب النهي عن تقنيط الإنسان من رحمه الله تعالى، ج:16، ص:174، ط:داراحیاء التراث العربی)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144211201736

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں