بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1446ھ 15 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

کلمہ کے ذکر میں صرف لا الہ الا اللہ پڑھنا


سوال

 میں نے سنا ہے کہ 70,000 مرتبہ لا الہ الا اللہ پڑھ  کے ہدیہ کے طور پر اپنے والدین  ،اولاد، اپنے لیے، بہن بھائیوں کے لیے جمع کیا جا سکتا ہے یا شاید امانتاًاللہ پاک کے پاس رکھا جا سکتا ہے ۔ پوچھنا یہ ہے کہ کیا پورا پہلا کلمہ پڑھنا چاہیے یا پھر لا الہ الا اللہ پڑھ لینا کافی ہے؟

جواب

 کلمہ طیّبہ جو کہ لاالہ الا اللہ ہے، کثرت سے پڑھنا یقیناً قابلِ اجر وثواب عمل ہے، اور اگر اس کا ثواب مرحومین کے لیے بخشا جائے  تو امید ہے کہ یہ عمل ان کی مغفرت کا سبب بن جائے ، تاہم کلمہ طیبہ کے ستر ہزار دفعہ یا کسی مخصوص تعداد میں پڑھ کر مرحومین کو ثواب بخشنے کا ذکر تتبع اور تلاش کے باوجود  کسی صحیح حدیث میں نہیں ملا۔البتہ مذکورہ عمل بزرگوں کے مجربات میں  مذکورہے۔نیز اس کا فائدہ صرف لا الہ الا اللہ پڑھنے سے حاصل ہوجائے گا۔

مرقات المفاتیح میں ہے:

"(ورواه الترمذي قال: هذا حديث غريب) : لا نعرف أحدا أسنده إلا ما روي من هذا الوجه، قال: والعمل على هذا عند أهل العلم، قال النووي: وإسناده ضعيف نقله ميرك، فكان الترمذي يريد تقوية الحديث بعمل أهل العلم، والعلم عند الله تعالى كما قال الشيخ محيي الدين بن العربي: أنه بلغني «عن النبي صلى الله عليه وسلم أن من قال: لا إله إلا الله سبعين ألفا غفر له، ومن قيل له غفر له أيضا» ، فكنت ذكرت ‌التهليلة ‌بالعدد المروي من غير أن أنوي لأحد بالخصوص، بل على الوجه الإجمالي، فحضرت طعاما مع بعض الأصحاب، وفيهم شاب مشهور بالكشف، فإذا هو في أثناء الأكل أظهر البكاء فسألته عن السبب فقال: أرى أمي في العذاب فوهبت في باطني ثواب التهليلة المذكورة لها فضحك وقال: إني أراها الآن في حسن المآب، قال الشيخ: فعرفت صحة الحديث بصحة كشفه، وصحة كشفه بصحة الحديث."

(مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، للعلامة علي القاري، (المتوفى: 1014هـ) ص:879 ج:3 ط: دار الفكر، بيروت – لبنان)

فضائلِ اعمال لمولانا محمد زکریاکاندھلویؒ (المتوفی: 1982ء)  میں ہے:

"شیخ ابو یزید قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے یہ سنا کہ جو ستر ہزار مرتبہ لا إلٰہ إلا اللہ پڑھے اس کو دوزخ کی آگ سے نجات ملے، میں نے یہ خبر سن کر ایک نصاب یعنی ستر ہزار کی تعداد اپنی بیوی کے لیے بھی پڑھا اور کئی نصاب خود اپنے لیے پڑھ کر ذخیرہٴ آخرت بنایا۔ ہمارے پاس ایک نوجوان رہتا تھا جس کے متعلق یہ مشہور تھا کہ یہ صاحبِ کشف ہے،  مجھے اس کی صحت میں کچھ تردد تھا، ایک مرتبہ وہ نوجوان ہمارے ساتھ کھانے میں شریک تھا کہ دفعةً اس نے ایک چیخ ماری اور سانس پھولنے لگا اور کہا کہ میری ماں دوزخ میں جل رہی ہے، اس کی حالت مجھے نظر آئی، قرطبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں اس کی گھبراہٹ دیکھ رہا تھا،  مجھے خیال آیا کہ ایک نصاب اس کی ماں کو بخش دوں جس سے اس کی سچائی کا بھی مجھے تجربہ ہوجائے گا، چنانچہ میں نے ایک نصاب ان نصابوں میں سے جو اپنے لیے پڑھے تھے اس کی ماں کو بخش دیا، میں نے اپنے دل میں چپکے ہی سے بخشا تھا اور میرے اس پڑھنے کی خبر بھی اللہ کے سوا کسی کو نہ تھی، مگر وہ نوجوان فوراً کہنے لکا کہ چچا میری ماں دوزخ کے عذاب سے ہٹادی گئی۔

قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے اس قصہ سے دو فائدے ہوئے ایک تو اس برکت کا جو ستر ہزار کی مقدار پر میں نے سنتی تھی اس کا تجربہ ہوا دوسرے اس نوجوان کی سچائی کا یقین ہوگیا۔" 

( فضائلِ ذکر، بابِ دوم :کلمہ طیّبہ کے فضائل، فصلِ دوم ص:468، ط:کتب خانہ فیضی لاہور)

تربیت السالک میں ہے:

" لا إله إلا الله ضرب  اور جہر کے بغیر چھ تسبیح آہستہ آہستہ پڑھا کریں اور کبھی کبھی اس کے ساتھ محمد رسول اللہ  ملا لیا کریں۔"

(ج: 2، ص: 91، ط: زمزم پبلشرز)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144512100072

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں