بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 صفر 1444ھ 26 ستمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

کلمۂ توحید کا معنیٰ اور کلمہ توحید پر ایک اعتراض کا جواب


سوال

سوال یہ ہے کہ:  لا الہ الا اللہ ،کا معنی کیا ہے؟ جب کی لفظِ لا الہ کہنے سے بات واضح ہو جاتی ہے، تو الا اللہ کہنے کی کیا ضرورت ہے؟

جواب

"لا إلٰه إلا اللّٰه"  کلمۂ طیبہ یا کلمۂ توحید ہے،  "لا إلٰه إلا اللّٰه"  کا معنی ہے:  "نہیں  ہے کوئی  معبودِ  برحق سوائے اللہ کے"  کلمۂ  تو حید   کے دو اجزاء ہیں ۔ پہلا جزء: "لا إلٰه": اس كا معنی ہے کہ نہیں ہے کوئی معبود ( یعنی ہر چیز کی عبادت کا انکار ) یہ شرک کا انکار ہے ۔ دوسرا جز  ہے: "إلا اللّٰه": اس كا معنی ہے، سوائے اللہ  تعالیٰ  کے یعنی ہر قسم کی عبادت  صرف  اللہ تعالیٰ کے  لیے خاص ہے  یہ توحید کا اقرار  ہے ۔ کلمۂ توحید نفی اور  اثبات دو چیزوں کا مجموعہ  ہے، تمام مخلوقات سے الوہیت  کی نفی اور  اللہ کے  لیے الوہیت کا اثبات، یعنی  اللہ تعالیٰ  ہی  معبود  برحق ہےاور  اس  کے  سوا  مشرکین  نے  جتنے بھی معبود بنا رکھے ہیں سب كے سب باطل ہیں، جيسا كہ الله تعالي كا فرمان ہے:

﴿ذٰلِكَ بِأَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّ مَا يَدْعُونَ مِن دُونِهِ هُوَ الْبٰطِلُ وَأَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِىُّ الْكَبِيرُ 

ترجمہ: یہ اس لیے کہ حق الله ہی کی ہستی ہے اور جنہیں اس کے سوا پکارتے ہیں وہ باطل ہیں اور بے شک الله ہی بلند مرتبہ بڑائی والا ہے۔

  (سورۃ الحج،آیت 62)

اب سائل نے جو سوال کیا ہے کہ صرف  "لا إلٰه "  سے بات پوری ہوجاتی ہے، تو  "إلا اللّٰه"  کی کیا ضرورت ہے؟ تو یہ سائل کے غلط فہمی ہے، وجہ یہ ہے کہ : صرف "لا إلٰه"  سے بات پوری نہیں ہوتی، کیوں کہ "لا إلٰه"  کا معنی ہے، "نہیں ہے کوئی معبود" اگر کلمہ یہی پر ختم ہوجاتا، تو اس کا مطلب ہوتا کہ کوئی بھی معبود نہیں ہے، جس میں اللہ تعالیٰ کی بھی نفی ہوتی، اور لازمی نتیجہ یہ نکلتا کہ اللہ تعالی بھی معبود نہیں ہے، یعنی معبود بر حق کا بھی انکار ہوجاتا، جب کہ یہ حقیقت کے خلاف ہے، اس لیے جملہ "إلا اللّٰه"  کو لایا، تا کہ پہلے جملے سے جس طرح دیگر معبودانِ باطلہ کی نفی ہوتی ہے، اسی طرح اس جملے سے معبود برحق کا اثبات ہوجائے، یہی وجہ ہے کہ دوسرا جملہ "إلا اللّٰه"  لایا گیا، اور اس کو لانا ضروری بھی ہے، اس لیے کہ صرف "لا إلٰه"  پر بات پوری نہیں ہوتی۔  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144307102335

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں