بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 شوال 1445ھ 14 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

کلمات کفریہ سے توبہ کرنے کے لیے کیا ان کلمات کی ادائیگی ضروری ہے؟


سوال

 میرے سے کئی کفریات صادر ہوئے ہیں مذاق اور انجانے میں اور میں نے ایک دفعہ مصر سے میرے دادا بت کی شکل لے کر آئے تھے تو ایسے ہی مذاق مذاق اور کھیل میں میں نے ہندؤوں کی طرح اس بت کی پوجا کی تھی مجھے نہیں پتا تھا کہ یہ شرکیہ عمل ہے اور اس سے انسان دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے اس کے علاوہ میں نے یہ جملہ کہا کہ اللہ ایک نہیں ہے(معاذ اللہ) تو مفتی صاحب میں نے آپکے فتوی نمبر( 144408101194)میں پڑھا تھا کہ اگر کسی سے متعدد کفریات صادر ہوئے ہوں تو توبہ میں ان کا ادا کرنا ضروری نہیں ہے البتہ اگر کسی چیز سے انکار کی وجہ سے اسلام سے خارج ہوا تھا تو اس چیز کا اقرار کرنا ضروری ہے (مثلا توحید کا انکار) تو مفتی صاحب میں نے پوچھنا یہ ہے کہ میں نے ان الفاظ سے توبہ کی کہ اے اللہ!میرے سے آج تک جتنے بھی کفریہ و شرکیہ الفاظ،جملے اور عمل جانے انجانے میں صادر ہوئے ہیں جو مجھے یاد ہیں اور جو یاد نہیں میں ان تمام سے نفرت کرتی ہوں اور آپکی بارگاہ میں ان تمام سے توبہ کرتی ہوں آئندہ احتیاط کرونگی اے اللہ!مجھے معاف کر دیجئے میں آپکو ایک مانتی ہوں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی مانتی ہوں پھر کلمہ پڑھ کہ ایمان مفصل پڑھ لی-تو کیا مفتی صاحب اس سے جو میں نے مذاق میں پوجا کر کے شرک کیا اور جو یہ جملہ کہا تھا کہ اللہ ایک نہیں ہے اور اس کے علاوہ جتنے بھی کفریات صادر ہوئے ہیں وہ تمام معاف ہو گئے اور میں دائرہ اسلام میں داخل ہو چکی یا مجھے پوجا پاٹ کا توبہ میں ذکر کرنا ضروری ہے اور اپنے اس جملے کا بھی کہ اللہ ایک نہیں ہے؟ کیا ایسے توبہ کرنے سے میری زندگی میں میں نے جتنے بھی کفر و شرک کئے تھے وہ معاف ہو گئے یا مفتی صاحب برائے مہربانی صحیح الفاظ بتا دیجئے یا پھر جن الفاظ سے میں نے توبہ کی وہ کافی ہیں؟نیز میرے سوال کا جواب میرے سوال سے متعلق ہی دیئے گا مفتی صاحب میں بہت پریشان ہوں مجھے سمجھ نہیں آ رہا پلیز صحیح الفاظ بتا دیں یا پھر یہ بتا دیں کہ کیا یہ الفاظ کافی ہیں اور میں اس سے دائرہ اسلام میں داخل ہو گئی اور کیا اس سے میرا مذاق میں پوجا اور کفریہ کلمہ بھی معاف ہو گیا؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کسی سے متعدد کلماتِ کفریہ صادر ہوگئے ہوں  ،تو ایک ہی مرتبہ اپنے ایمان کی تجدیدکرے،تجدید ایمان کا طریقہ یہ ہے کہ  کلمۂ شہادت زبان سے ادا کیا جائے اور دل سے اس کی تصدیق کی جائے، اسی طرح اللہ تعالیٰ کی کتابوں، فرشتوں، رسولوں، آخرت کے دن، اچھی بری تقدیر اور روزِ قیامت جیسے بنیادی عقائد پر ایمان کا اعتراف کرلے۔البتہ  اگر کسی چیز سے انکار کی بنا پر ایمان سے خارج ہوگیا تھا تو اس کا اقرار کر لے (مثلاً توحید کا انکار کرنے کی وجہ سے ایمان سے خارج ہوگیا تھا تو توحید کا اقرار کرے)، اور کسی ایسی چیز کو اختیار کرلیا تھا جو ایمان کے خلاف تھی تو اس سے بے زاری اور براءت کرے، مثلاً عیسائی مذہب اختیار کر لیا تھا جس وجہ سے ایمان سے خارج ہوگیا تھا تو عیسائی مذہب سے بے زاری  اور براءت کرے، جو کلمات کفر کہے تھے ان  کو زبان سے اداکرنے کی ضرورت نہیں ہے۔لہذا صورت مسئولہ میں سائلہ نے سوال میں مذکورجس طریقہ پرتوبہ کی ہے وہ کافی ہے اوراس توبہ کرنے سے سائلہ مسلمان ہوچکی ہے  پھر سے تجدیدایما ن کرنے کی ضرورت نہیں سائلہ کو چاہیے کہ آئندہ احتیاط کرے۔

الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ میں ہے:

‌‌"أركان وشروط التوبة:

ذكر أكثر الفقهاء والمفسرين أن للتوبة أربعة شروط: الإقلاع عن المعصية حالا، والندم على فعلها في الماضي، والعزم عزما جازما أن لا يعود إلى مثلها أبدا."

(جلد 14 ص: 120 ط: وزارۃ الاوقاف و الشئون الاسلامیة ۔ الکویت)

فتاوی شامی میں ہے:

"ثم اعلم أنه يؤخذ من مسألة العيسوي أن من كان كفره بإنكار أمر ضروري كحرمة الخمر مثلا أنه لا بد من تبرئه مما كان يعتقده لأنه كان يقر بالشهادتين معه فلا بد من تبرئه منه كما صرح به الشافعية وهو ظاهر."

(کتاب الجهاد , باب المرتد جلد 4 ص: 228 ط: دارالفکر)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144408102466

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں