بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو القعدة 1445ھ 18 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

کیکڑا اور جھینگا کھانے کا حکم


سوال

کیا کیکڑا اور جھنگا کھانا حلال ہے؟ اسلام میں کیکڑے /جھینگے جائز ہیں؟

جواب

واضح رہے کہ سمندری جانوروں میں سے صرف مچھلی کھانا حلال ہے۔ کیکڑا چوں کہ مچھلی کی کسی قسم میں شامل نہیں، بلکہ    کیکڑے کا شمار دریائی کیڑوں میں ہوتا ہے،اس لیے  کیکڑا کھانا مکروہِ تحریمی ہے، البتہ جھینگے  کی حلت اورحرمت  کی بنیاد اس بات پرہےکہ یہ مچھلی ہےیا نہیں؟

تو جولوگ جھینگے کو مچھلی قراردیتے ہیں وہ اس کی حلت کے قائل ہیں،  اورجولوگ اس کو مچھلی قرارنہیں دیتے وہ اس کی حلت کے قائل نہیں ہیں۔   ماہرینِ علم لغت و حیوانات جھینگے کو مچھلی قراردیتے ہیں اوراکثرعلماء کی رائے بھی یہی ہے،ہمارے دارالافتاء کا بھی یہی موقف ہے کہ جھینگا کھاناحلال ہے۔ 

باقی اگر کسی کو  طبعی طور پر جھینگے سے  کراہت ہوتی ہےتو وہ جھینگا نہ کھائے تو اس  میں کوئی مضائقہ نہیں ہے، اور جو لوگ جھینگا نہیں کھاتے، انہیں اس کے کھانے پر مجبور نہ کیا جائے، اور جو لوگ کھاتے ہیں انہیں مطعون نہ کیا جائے۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع میں ہے:

"{ويحرم عليهم الخبائث} [الأعراف: 157] والضفدع والسرطان والحية ونحوها من الخبائث".

(‌‌كتاب الذبائح والصيود، المأكول وغير المأكول من الحيوانات، ج:5، ص:35، ط:دار الكتب العلمية)

تکملۃ فتح الملہم میں ہے:

"وأما عند الحنفية فيتوقف جوازه علي أنه سمك أو لا ...... فذکر غير واحد من أهل اللغة أنه نوع من السمك ..... وأفتي غير واحد من الحنفية بجوازه بناء على ذلك.
فلو أخذنا بقول خبراء علم الحيوان فإنه ليس سمكا، فلا يجوز على أصل الحنفية، ولكن السؤال هنا: هل المعتبر في هذا الباب التدقيق العلمي في كونه سمكا؟ أو يعتبر العرف المتفاهم بين الناس؟ ولا شك أن عند اختلاف العرف يعتبر عرف أهل العرب، لأن استثناء السمك من ميتات البحر إنما وقع باللغة العربية ..... فمن أخذ بحقيقة الإربيان حسب علم الحيوان قال بمنع أكله عند الحنفية، ومن أخذ بعرف أهل العرب قال بجوازه، وربما يرجح هذاالقول بأن المعهود من الشريعة في أمثال هذه المسائل الرجوع إلی العرف المتفاهم بين الناس، دون التدقيق في الأبحاث النظرية، فلا ينبغي التشديد في مسألة الإربيان عند الإفتاء، ولا سيما في حالة كون المسألة مجتهدا فيها من أصلها، ولا شك أنه حلال عند الأئمة الثلاثة، وإن اختلاف الفقهاء يورث التخفيف كما تقرر في محله، غير أن الاجتناب عن أكله أحوط وأولى وأحرى".

(کتاب الصید والذبائح، باب إباحة ميتات البحر، ج:3، ص:427، ط:دار إحياء التراث العربي)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144502102315

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں