بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ذو الحجة 1442ھ 04 اگست 2021 ء

دارالافتاء

 

کئی منتیں مان کر بھول جانے کا حکم


سوال

اگر کچھ منتیں مانی ہوں اور وہ بھول جائیں، مثلاً دو یا دو سے زیادہ مرتبہ منت مان کر بھول گئے ہوں، تو  ان کا کفارہ کیسا ہوگا؟

جواب

واضح رہے کہ کسی جائز کام کے ہونے پر  اللہ تعالی کے لیے کسی متعین عبادت کی  منت مانی جائے، تو وہ کام ہوجانے پر اس منت کو پورا کرنا واجب ہے، اور اگر منت مانی، لیکن اس کو متعین نہیں کیا، مثلًا یوں کہا: "مجھ پر اللہ کے لیے نذر ہے" اور دل میں کوئی خاص نیت وغیرہ نہیں کی، تو کام ہوتے ہی قسم کا کفارہ ادا کرنا ضروری ہے۔

بصورتِ مسئولہ اگر کسی چیز کی منت مان کر بھول گئے ہیں، تو یاد کرنے کی کوشش کریں،  اور یاد آتے ہی اس چیز کی منت  پورا کرنا ضروری ہے، اور اگر کسی چیز کے بارے میں غالب گمان ہوجائے تو اسی پر عمل کریں انشاءاللہ منت پوری ہوجائے گی، تاہم اگر کوشش کے باوجود بھی یاد نہیں آیا اور نہ ہی کسی چیز کے بارے میں غالب گمان ہوا، تو  توبہ و استغفار کرتے رہیں، باقی اس صورت میں کوئی کفارہ نہیں ہے، البتہ اگر کسی کام کے ہونے پر منت مانی لیکن منت مانتے وقت دل میں کسی خاص بات کی تعیین نہیں کی، توکام ہوتے ہی محض قسم کا کفارہ اداکرنا ضروری ہے۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع میں ہے:

"أَمَّا أَصْلُ الْحُكْمِ فَالنَّاذِرُ لَايَخْلُو مِنْ أَنْ يَكُونَ نَذَرَ وَسَمَّى، أَوْ نَذَرَ وَلَمْ يُسَمِّ، فَإِنْ نَذَرَ وَسَمَّى فَحُكْمُهُ وُجُوبُ الْوَفَاءِ بِمَا سَمَّى، بِالْكِتَابِ الْعَزِيزِ وَالسُّنَّةِ وَالْإِجْمَاعِ وَالْمَعْقُولِ .

( أَمَّا ) الْكِتَابُ الْكَرِيمِ فَقَوْلُهُ - عَزَّ شَأْنُهُ - { وَلْيُوفُوا نُذُورَهُمْ }.....

( وَأَمَّا ) النَّذْرُ الَّذِي لَا تَسْمِيَةَ فِيهِ فَحُكْمُهُ وُجُوبُ مَا نَوَى إنْ كَانَ النَّاذِرُ نَوَى شَيْئًا سَوَاءٌ كَانَ مُطْلَقًا عَنْ شَرْطٍ ، أَوْ مُعَلَّقًا بِشَرْطٍ ، بِأَنْ قَالَ : لِلَّهِ عَلَيَّ نَذْرٌ أَوْ قَالَ : إنْ فَعَلْت كَذَا فَلِلَّهِ عَلَيَّ نَذْرٌ ، فَإِنْ نَوَى صَوْمًا أَوْ صَلَاةً أَوْ حَجًّا أَوْ عُمْرَةً ، لَزِمَهُ الْوَفَاءُ بِهِ فِي الْمُطْلَقِ لِلْحَالِ ، وَفِي الْمُعَلَّقِ بِالشَّرْطِ عِنْدَ وُجُودِ الشَّرْطِ ، وَلَا تُجْزِيهِ الْكَفَّارَةُ فِي قَوْلِ أَصْحَابِنَا عَلَى مَا بَيَّنَّا ، وَإِنْ لَمْ تَكُنْ لَهُ نِيَّةٌ فَعَلَيْهِ كَفَّارَةُ الْيَمِينِ ، غَيْرَ أَنَّهُ إنْ كَانَ مُطْلَقًا يَحْنَثُ لِلْحَالِ ، وَإِنْ كَانَ مُعَلَّقًا بِشَرْطِ يَحْنَثُ عِنْدَ الشَّرْطِ ، لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ : { النَّذْرُ يَمِينٌ وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ الْيَمِينِ } ، وَالْمُرَادُ مِنْهُ النَّذْرُ الْمُبْهَمُ الَّذِي لَا نِيَّةَ لِلنَّاذِرِ فِيهِ".

(كتاب النذر، فصل في حكم النذر، ج:6، ص:343/48، ط:دارالحديث، القاهرة)

شرح صحيح البخارى ـ لابن بطال میں ہے:

"قوله عليه السلام: (رُفع عن أمتى الخطأ والنسيان وما استكرهوا عليه) فوجب أن يكون مرفوعًا من كل وجه إلا أن يقوم دليل، قالوا : ووجدنا النسيان لا حكم له في الشرع."

(كتاب الأيمان والنذور، ج:6، ص:127، ط:دارإحياء التراث العربى)

فقط والله أعلم 


فتوی نمبر : 144202200658

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں