بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 شوال 1443ھ 26 مئی 2022 ء

دارالافتاء

 

کافروں کے ہاتھ سے بنائی گئی اور آلائش صاف نہ کی گئی مچھلی کھانے کا حکم


سوال

ہمارے یہاں مچھلی سے ایک قسم کی ڈش تیار کی جاتی ہے،جس کو "ننپی "اور "ننپیایے" کہا جاتا ہے،بعض مسلمان اس ڈش کوبڑی لذت سے کھاتے ہیں اور یہ ڈش ہمارے ملک میں بڑے پیمانے پر کھائی جاتی ہے،اس ڈش کوبناتے وقت عموماً مچھلی کے پیٹ کو چاک کرکے آلائش صاف کرنے کااہتمام نہیں کیا جاتا،اس لیے آپ سے یہ معلوم کرنا ہے کہ:

(1)کیا مچھلی اپنے تمام اجزاء سمیت پاک اور حلال ہے؟

اس مسئلہ کے متعلق مصنف ابن ابی شیبہ (ج:10،ص:410،ط:شرکۃ دار القبلۃ) کی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مچھلی پوری کی پوری پاک ہے،مچھلی چاہے چھوٹی ہو یا بڑی،نیز معرفۃ السنن والآثار للبیھقی (ج:13،ص:467،ط:دار الوعی حلب) کی حدیث (رقم:18857اور18858)سے بھی یہی بات معلوم ہوتی ہے۔

جبکہ امداد الفتاویٰ (ج:8،ص:589،ط:زکریا بک ذپو ہند،مع حاشیہ مفتی شبیر احمد قاسمی) میں "خشک مچھلی کھانا"کے عنوان کے تحت مچھلی کو شگاف دے کر دھو کر کھانا مذکور ہے،نیز امداد الاحکام(ج:4،ص:309،ط:مکتبہ دار العلوم کراچی) میں مصرح ہے کہ بڑی مچھلی کی آلائش کو صاف کرنا سب کے نزدیک واجب ہے،بدون صاف کیے بغیر کھانا جائز نہ ہوگا۔

لہذا اس مسئلہ میں صحیح اور راجح قول کیاہے؟

(2)پیٹ چاک کرکے آلائش صاف کرنے کے سلسلے میں چھوٹی اور بڑی مچھلی میں حکماً کچھ فرق ہے؟

(3)بازار میں کافروں کی طرف سے بنائی گئی اس مچھلی کی ڈش کی پیک شدہ بوتلیں ملتی ہیں،جن کے بارے میں اس بات کا اطمینان نہیں ہوتا کہ ان میں آلائش سے پاک مچھلیاں استعمال کی گئی ہیں،لہذا ایک مسلمان کے لیے اس طرح کی بوتلوں کی خرید وفروخت اور اس ڈش کو کھانا کیا شرعاً درست ہوگا؟

(4)نیز بازاروں میں فروخت ہونے والی ان پیک شدہ بوتلوں کے بارے میں اس بات کا بھی اطمینا ن نہیں ہوتاکہ اس میں صرف مچھلی ہی استعمال کی گئی ہو،اگر چہ بوتل پر اجزاء ترکیبیہ میں صرف مچھلی لکھی ہوئی ہے،مگر کافروں سے کچھ بعید نہیں کہ وہ ان میں دیگر مائی جانوروں کو بھی شامل کرتے ہوں،لہذا ایسی صورتِ حال میں ایک مسلمان کے لیے اس طرح کی بوتلوں کی خرید  وفروخت اور اس ڈش کو کھانے کا شرعاً کیا حکم ہوگا؟

جواب

(1،2) صورتِ مسئولہ میں اگر مچھلی اتنی چھوٹی ہو کہ اس کی آلائش نکالنا ممکن نہ ہو، تواس کی آلائش نکالنا لازم نہیں ، آلائش صاف کیے بغیراس کا کھانا جائز ہے،البتہ اگر  مچھلی بڑی  ہویااس کی آلائش نکالنا ممکن ہو  تو پھر اس کی آلائش صاف کرنا لازم ہے،آلائش صاف کیے بغیر اس کا کھانا جائز نہیں ۔

جہاں تک "مصنف ابن ابی شیبہ" اور "معرفۃ السنن والآثار للبیھقی" کی رویات کا تعلق ہے،  جن کے الفاظ تقریباً یہ ہیں :قال رسول الله صلى الله عليه وسلم «الجراد والنون ‌ذكي ‌كله فكلوه» ان روایات میں "ذکی کله" کے الفاظ سےسائل نے جو یہ مطلب سمجھا ہے کہ مچھلی پوری کی پوری آلائش سمیت پاک ہے،اس کا مطلب یہ نہیں ہے،بلکہ یہاں"ذکی" "ذکاۃ" سے ہے بمعنیٰ ذبح کرنا یعنی اس  سے مراد یہ ہے کہ مچھلی پہلے سےذبح شدہ کے حکم میں ہے،اس کو حلال کرنے کے لیے دوسرے جانوروں کی طرح ذبح کرنا ضروری نہیں ہے۔

(3) واضح رہے کہ تجارت کرنے والا مسلمان ہو یا کافر،اس کا مقصد اپنی تجارت کو فروغ دینا اور اس کو بڑھانا ہوتا ہے،لہذا بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ بازار میں کافروں کی طرف سے جس مچھلی کی بنائی گئی ڈش ملتی ہے،اس کی آلائش صاف کی گئی ہوگی،کیونکہ آلائش سمیت مچھلی کو کھانا حد درجہ مشکل ہے،البتہ اگر پھر بھی کسی کو اس مچھلی کی آلائش صاف کیے جانے کا اطمینان نہ ہو،تواس کے متعلق حکم یہ ہے کہ اگر وہ مچھلی اتنی چھوٹی ہو کہ اس کی آلائش صاف کرنا ممکن نہ ہو تو آلائش صاف کیے بغیر اس کا کھانا اور اس کی خرید وفروخت کرنا شرعاً درست ہے۔

اور اگر وہ مچھلی بڑی ہو یا اس کی آلائش صاف کرنا ممکن ہو تو    آلائش صاف کیے بغیر اس کا کھانا اور اس کی خرید وفروخت کرنا شرعاً درست نہیں۔

(4)اس صورت میں ان کا قول معتبر نہیں ہوگا،لہذا جب تک کسی مسلمان کے ذریعہ سے یہ بات معلوم نہ ہوجائے کہ اس ڈش میں صرف مچھلی ہی استعمال کی گئی ہے اور کسی دوسرے مائی جانور کو اس میں شامل نہیں کیا گیا ہے،تو اس وقت تک اس مچھلی کی ڈش کو کھانا اور اس کی خرید وفروخت کرنا شرعاً درست نہیں ہوگا۔

امداد الاحکام میں ہے:

"سوال: ملک بنگال میں نہایت چھوٹی اور بچی  مچھلیوں کی آلائشِ شکم جس میں پتا اور گوہ وغیرہ بھی شامل ہوتا ہے،ان کے پیٹ یا گلے کاٹ کر نہیں نکالی جاتی،بجائے اس کے انگلیوں سے ان کے پیٹ یا گلے زور سے دباتے ہیں جس سے پیٹ پھٹ کر وہ آلائش نکل جاتی ہےپھر پانی سے خوب تر بتر دھولیتے ہیں،مگر کاٹی ہوئی جگہ سے پانی جس طرح اندر پہنچتا ہے اور آلائش دور کرتا ہے،پھٹی ہوئی جگہ سے ویسا ہونے میں شک ہے،اب سوال یہ ہے کہ  اس طریقہ سے آلائش صاف کرکے جس میں آلائش کے بالکلیہ زائل ہونے میں شک ہے،یہ مچھلیاں کھانا جائز ہے یا نہیں؟

الجواب: بہت چھوٹی مچھلی کا کھانا بدون چاک کیے اور آلائش صاف کیے بھی حلال ہے "کما فی الشامی: و في سمك الصغار الّتي تقلی من غیر أن یشقّ جوفه فقال أصحابه (أي أصحاب الشافعي) لایحلّ أکله؛ لأنّ رجیعه نجسٌ وعند سائر الأئمة یحلّ"، پس جس چھوٹی مچھلی میں سے پتا وغیرہ نکالنا ممکن نہ ہو وہ تو بدون چاک کیے اور آلائش صاف کیے حلال ہے،البتہ وہ چھوٹی مچھلی کہ جس میں سے آلائش نکل سکتی ہے مگر چاک نہیں کرتا، بلکہ دبانے پر کفایت کی جاتی ہے، جیسا کہ سوال میں درج ہے، اس کے متعلق تفصیل یہ ہے کہ جس کو اس طریق پر دھونے میں طہارت کا گمان غالب ہو اس کو کھانا جائز ہے اور جس کو طریق ِمذکور پر دھونے سے طہارت کا گمان غالب نہ ہو اس کو کھانا جائز نہیں، کیونکہ جب اخراج نجاست ممکن ہے تو بدون اخراج  نجاست بالاتفاق  حرام ہے"فی تنویر الابصار: سمكة ‌في ‌سمكة فإن كانت المظروفة صحيحة حلتا وإلاحل الظرف لا المظروف (وقال صاحب الدر تحته): كما لو خرجت من دبرها لاستحالتها عذرة (وقال الشامي تحت قوله عذرة): فلو فرض خروجها غير مستحيلة حلت أيضا، لأن مناط الحرمة استحالتها لا خروجها من الدبر."

(ج:4، ص:313، ط:مکتبہ دار العلوم کراچی)

وفیہ ایضاً:

"سوال: مچھلی میں کیا چیزیں حرام ہیں ،بعض مولوی صاحبان کہتے ہیں کہ پتا حرام ہے، لہٰذا جو مچھلی بہت چھوٹی ہے ، پتے  کی تمیز کرنا ممکن نہیں ہے، اس کا کھانا کیا مکروہِ تحریمی ہے؟  جواب عنایت فرمائیں۔

الجواب: قال في رد المحتار: و في سمك الصغار الّتي تقلی من غیر أن یشقّ جوفه فقال أصحابه (أي أصحاب الشافعي) لایحلّ أکله؛ لأنّ رجیعه نجسٌ وعند سائر الأئمة یحلّ(کتاب الذبائح،ج:6،ص:309،ط:سعید)

عبارت بالا سے معلوم ہوا کہ چھوٹی مچھلی کو اگر بدون آلائش صاف کیے ہوئے بھی پکالیا جائے تو ائمہ ثلاثہ رحمھم اللہ کے نزدیک جائز ہے اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک آلائش صاف کرنے کے بعد جائز ہے اور صغار کی قید سے مفہوم ہوتا ہے کہ بڑی مچھلی کی آلائش صاف کرنا سب کے نزدیک واجب ہے،بدون صاف کیے کھانا جائز نہ ہوگا۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں چھوٹی مچھلی کو بدون پیٹ صاف کیے ہمارے نزدیک کھانا جائز ہے۔واللہ اعلم"

(ج:4،ص309،ط،مکتبہ دار العلوم کراچی)

التعلیق الممجد علی موطا محمد میں ہے:

"ذكي ‌كله أي مذبوح كله أي في حكمه"

(کتاب الضحایا،باب أکل الجراد، ج:2، ص:647، ط:دارالقلم)

الشافی فی شرح مسند الشافی میں ہے:

"والنون: هو الحوت"

"والذكي: الذبيح من الذكاة: الذبح"

(کتاب الصید و الذبائح، ج:5، ص:418، ط:مکتبۃ الرشد)

فتاویٰ ہندیہ میں ہے؛

"ولا بأس ‌بطعام ‌المجوس كله إلا الذبيحة۔۔۔ولا بأس بالذهاب إلى ضيافة أهل الذمة"

(کتاب الکراهية، الباب الرابع عشر، ج:5، ص:347، ط:رشیدیه)

البحر الرائق میں ہے:

"قال - رحمه الله -: (ويقبل ‌قول ‌الكافر في الحل والحرمة) قال الشارح وهذا سهو لأن الحل والحرمة من الديانات ولا يقبل ‌قول ‌الكافر في الديانات"

(کتاب الکراهية، فصل فی الأکل والشرب، ج:8، ص:212، ط:دار الکتاب الإسلامی)

تبیین الحقائق میں ہے:

"ولا يقبل ‌قول ‌الكافر في الديانات، وإنما يقبل قوله في المعاملات خاصة للضرورة ؛ ولأن خبره صحيح لصدوره عن عقل ودين يعتقد فيه حرمة الكذب، والحاجة ماسة إلى قبول قوله لكثرة وقوع المعاملات، ولا يقبل في الديانات لعدم الحاجة"

  (کتاب االکراهية، ج:6، ص:12، ط:المطبعہ الکبری الامیریة)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144303100894

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں