بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 رجب 1444ھ 30 جنوری 2023 ء

دارالافتاء

 

کافر کو اس کے مذہب کے مطابق سلام کرنے کا حکم


سوال

کیا کافر کو اس کے مذہب کے مطابق سلام کرسکتے ہیں،جیسے رام رام یا آداب؟

جواب

اسلامی شعار السلام علیکم ہے،غیر اسلامی شعار کو اختیار کرنا جائز نہیں ہے،"رام " ہندو مذہب میں ان کامعبود اور بھگوان مانا جاتا ہے،کافر کو سلام شرعی کی جگہ ان الفاظ یا دیگر الفاظ  سے سلام کرنا گناہ ہے،ان الفاظ سے نہ ہی ابتداء میں سلام کیا جائے اور نہ ہی ان الفاظ سے جواب  دیا جائے،بلکہ کافر کو  "السلام علی من اتبع الھدی"کے الفاظ سے مخاطب کرنا چاہیے،اور اگر وہ السلام علیکم کہیں تو جواب میں "وعلیکم" کہہ دیا جائے،اگر وہ اپنے الفاظ "نمستے "وغیرہ سے سلام کرے،تو جواب میں "ھَدَاکَ اللہ"یا صرف لفظِ "سلام "کہہ دیا جائے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"ولفظ السلام في المواضع كلها: السلام عليكم أو سلام عليكم بالتنوين، وبدون هذين كما يقول الجهال، لا يكون سلاما."

(كتاب الحظر والاباحۃ،فصل فی البیع،416/6،ط:سعید)

وفیہ ایضاً:

"إذا سلم على أهل الذمة فليقل: السلام على من اتبع الهدى وكذلك يكتب في الكتاب إليهم اهـ. وفي التتارخانية قال محمد: إذا كتبت إلى يهودي أو نصراني في حاجة فاكتب السلام على من اتبع الهدى."

(كتاب الحظر والاباحۃ،فصل فی البیع،412/6،ط:سعید)

کفایت المفتی میں ہے:

"عنوان:سلام کے بجائے رام رام کہنا گناہ اور کفار کا شعار ہے:

سوال:ایک شخص باہر سے آیا اور بجائے سلام مسنون کے رام رام کہا،اس کا کیا حکم ہے؟

جواب:رام رام کہنا شرعی سلام کی جگہ گناہ ہے کہ یہ کفار کا شعار ہے۔"

(کتاب الحظر والاباحۃ،109/9،ط:دارالاشاعت)

فتاوی محمودیہ میں ہے:

"عنوان:غیر مسلم اور فاسق کو سلام،آداب ،عرض،نمستے،کا جواب کس طرح دیا جائے؟

سوال(1)غیر مسلم کو سلام کرنے کا کیا حکم ہے؟اگر ان کے مجمع سے گزر ہو تو ان کو سلام کیا جائے یا نہیں؟

سوال(2) آداب،عرض،نمستے وغیرہ جو کلمات ان کی طرف سے بطور سلام استعمال ہو ان کا جواب کیسے دیا جائے؟

جواب(1) جو کلمات ان کے یہاں بطورِ سلام مستعمل ہوتے ہیں ان کو نہ ابتداءًکہے نہ جواباً،وقتِ ضرورت ان کو ؛السلام علی من اتبع الھدی؛ سے خطاب کرنا درست اور ثابت ہے،اگر وہ ؛السلام علیکم؛کہیں تو جواب میں ؛وعلیکم؛کہہ دیا جاوے۔

جواب(2) اگر وہ اپنے کلمات ؛نمستے ؛وغیرہ کہیں تو جواب میں ؛ھداک اللہ ؛اور ؛سلام؛کہہ دیا جاوے،فقط سلام کہہ دینا بھی درست ہے۔"

(کتاب الحظر والاباحۃ، باب السلام الخ،92،93/19،ط:جامعہ فاروقیہ )

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144405100065

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں