بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1445ھ 13 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

کفارہ صوم کے روزوں کے درمیان عورت کو حیض آنے کا حکم


سوال

اگر روزہ بغیر کسی شرعی عذر کے توڑ دیا جائے تو قضا میں ایک عورت دو ماہ مسلسل کیسے روزے رکھ سکتی ہے؟جو ناممکن ہے  اور کیا ساتھ غریبوں کو کھانا کھلانا بھی ضروری ہے؟  اگر وہ خود مجبوراور غریب  ہو۔

جواب

واضح رہے کہ عورت کو حیض آنا  چوں کہ طبعی اور شرعی عذر ہے، اور یہ ہر ماہ اسے لاحق ہوتاہے، اس لیے شریعت نے اس کی وجہ سے دو ماہ کے روزوں میں آنے والے وقفے کو معاف قرار دیا ہے،  لہذا اگر کوئی عورت حیض آنے کی وجہ سے  ساٹھ روزے رکھتے ہوئے درمیان میں کچھ دن  روزے نہ رکھ پائے تو اس سے تسلسل نہیں ٹوٹے گا، یعنی ساٹھ روزے رکھنے کے دوران جس دن حیض آجائے اس دن سے روزہ رکھنا چھوڑ دے اور جس دن حیض آنا بند ہوجائے اس کے اگلے دن سے دوبارہ روزے رکھنا شروع کردے، حیض کے علاوہ کسی اور وجہ سے وقفہ کیے بغیر اگر عورت ساٹھ روزے رکھ لے تو اس کا کفارہ ادا ہوجائے گا۔

ہاں!  اس کے علاوہ کسی اور بیماری کی وجہ سے روزہ نہ رکھ سکے اور ایک دن بھی وقفہ ہوجائے تو از سرِ نو  دو ماہ کفارے کے روزے رکھنے ہوں گے۔

پھر جو مرد یا عورت روزہ رکھنے پر قادر ہو اس کا کفارہ روزہ رکھنے سے ہی ادا ہوگا، اور ساٹھ روزے رکھنے کے ساتھ غریبوں کو کھانا کھلانا ضروری نہیں ہے، کھانا کھلانے کا حکم اس مرد یا عورت کے لیے ہے جو  کسی مستقل یا دائمی بیماری یا شدید ضعف کی وجہ سے روزے رکھنے پر قادر نہ ہو تو ایسی صورت میں  اس کا کفارہ ساٹھ مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلانے سے بھی ادا ہوجائے گا۔

الاختيار لتعليل المختار (3/ 165):

"ولو حاضت المرأة في كفارة الصوم لا تستقبل، وإن أفطرت لمرض استقبلت."

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144209202356

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں