بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو الحجة 1445ھ 20 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

متعدد روزوں کے کفارے کا حکم


سوال

متعدد ر مضان کے متعدد روزوں کا کفارہ کیسے دیا جائے؟ ہر روزے کا الگ الگ کفارہ ہوگا یا باری باری ہر رمضان کے روزوں کا کفارہ ادا کرنا ہوگا؟

جواب

رمضان کا روزہ بلاعذر جان بوجھ کر چھوڑ دینا یا رکھ کر توڑدینا انتہائی محرومی کی بات ہے، بلاعذر چھوڑے گئے روزوں کی قضا ضروی ہے اور توبہ و استغفار بھی ضروری ہے اور رمضان کا روزہ رکھ کر جان بوجھ کربلا عذر  توڑنے کی صورت میں قضا  کے ساتھ کفارہ بھی لازم ہوگا۔

کفارہ میں تداخل سے متعلق تفصیل یہ ہے کہاگر جماع کے علاوہ دیگر وجوہات (مثلاً کھانا ،پینا  وغیرہ )  کی وجہ سے متعدد کفارے لازم ہوئے تو سب کا ایک  ہی کفارہ کافی ہے چاہے  وہ ایک رمضان کے ہوں یا متعدد رمضان کے ۔اور اگر جماع کی وجہ سے متعدد کفارے لازم ہوئےتواگر ایک رمضان کے متعدد کفارے لازم ہوئے تو ایک کفارہ کافی ہے اور اگر متعد درمضانوں کے کفارے لازم ہوئے تو ہر رمضان کے روزوں کا الگ الگ کفارہ ادا کرنا ضروری ہے ،یہی مفتی بہ قول ہے۔

کفارہ یہ ہے کہ دو ماہ مسلسل روزے رکھے جائیں اور اگرعمر رسیدگی  کی وجہ سے ضعف و کمزوری ہو گئی ہو   یا ایسا دائمی مرض ہو، جس کی وجہ سے  دو ماہ مسلسل روزے رکھنے کی بالکل استطاعت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو دو وقت پیٹ بھر کر کھانا کھلایا جائے۔

جان بوجھ کر روزہ توڑنے کی صورت میں  کفارہ کے ساٹھ روزوں کے ساتھ ایک روزہ قضا کا بھی رکھنا ضروری ہے،  یعنی کل اکسٹھ (۶۱ ) روزے رکھنے ہوں گے اور  جب کفارہ  کے ساٹھ روزے رکھے تو  بلا ناغہ مسلسل ساٹھ روزے رکھنا واجب ہے،اگر درمیان میں ناغہ کیا اور صرف ایک ہی دن کا روزہ نہیں رکھا تو بھی نئے سرے سے دوبارہ روزے رکھنا واجب ہوگا ،پچھلے روزوں کا اعتبار نہ ہوگا ۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع میں ہے:

’’ولو جامع في رمضان متعمدًا مرارًا بأن جامع في يوم ثم جامع في اليوم الثاني ثم في الثالث ولم يكفر فعليه لجميع ذلك كله كفارة واحدة عندنا، وعند الشافعي عليه لكل يوم كفارة، ولو جامع في يوم ثم كفر ثم جامع في يوم آخر فعليه كفارة أخرى في ظاهر الرواية، وروى زفر عن أبي حنيفة أنه ليس عليه كفارة أخرى، ولو جامع في رمضانين ولم يكفر للأول فعليه لكل جماع كفارة في ظاهر الرواية‘‘۔

(کتاب الصوم  ،فصل حکم فساد الصوم ،ج:2،ص101،ط:دار الکتب العلمیہ)

فتاوی شامی میں ہے:

’’ولو تكرر فطره ولم يكفر للأول يكفيه واحدة ولو في رمضانين عند محمد وعليه الاعتماد بزازية ومجتبى وغيرهما واختار بعضهم للفتوى أن الفطر بغير الجماع تداخل وإلا لا۔(قوله: ولم يكفر للأول) أما لو كفر فعليه أخرى في ظاهر الرواية للعلم بأن الزجر لم يحصل بالأولى بحر (قوله: وعليه الاعتماد) نقله في البحر عن الأسرار ونقل قبله عن الجوهرة لو جامع في رمضانين فعليه كفارتان وإن لم يكفر للأولى في ظاهر الرواية وهو الصحيح. اهـ.قلت: فقد اختلف الترجيح كما ترى ويتقوى الثاني بأنه ظاهر الرواية (قوله: إن الفطر) إن شرطية ح (قوله: وإلا لا) أي وإن كان الفطر المتكرر في يومين بجماع لا تتداخل الكفارة، وإن لم يكفر للأول لعظم الجناية ولذا أوجب الشافعي الكفارة به دون الأكل والشرب.‘‘

(کتاب الصوم ،باب ما یفسد الصوم و ما لا یفسدہ ،ج:2، ص:412،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144410101125

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں