بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو القعدة 1445ھ 27 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

کفِ ثوب اور مسبلِ ازار والی حدیث کا صحیح محمل


سوال

 احادیثِ صحیحہ میں وارد ہے کہ نماز میں کفِ ثوب ممنوع ہے، تو اگر شلوار کو اوپر سےیانیچےسےموڑا جائےتو کیا کفِ ثوب لازم آئے گا؟ اگر شلوار ٹخنوں سے نیچے ہو اوپرموڑنے سے کفِ ثوب لازم آئے گا؟تو اس حدیث کا کیا محمل رہےگا کہ مسبل کی نماز مقبول نہیں؟  تمام احادیث و آثار کو مدنظر رکھ کر جواب مرحمت فرمائیں،نیز دورِ جدید کے علمائے کرام و مفتیانِ عظام کی کیا رائے ہے؟ 

اسی طرح بعض لوگ آستین موڑ کر نماز پڑھتے ہیں،تو کیا یہاں بھی کفِ ثوب لازم نہیں آئے گا؟ اگر آئے گاتو اس صورت میں حکم کیا ہے؟یعنی نماز مع الکراہت ہو جائے گی یا واجب الاعادہ ہوگی؟

جواب

واضح رہےکہ جواب سےپہلےبطورِ تمہید چندباتیں ملحوظ فرمائیں،(1)کف الثوب کالغوی اوراصطلاحی معنی۔(2)اسبال کی لغوی اوراصطلاحی معنیٰ۔(3)کف الثوب والی حدیث اوراسبال والی حدیث کاصحیح محمل۔

(1)کف الثوب کالغوی اوراصطلاحی معنی:

لغوی معنی :'' کف الشیٔ يكفه کفّا جمعه''یعنی کسی چیز کو جمع کرنا ،اکھٹا کرنا اورسمیٹنا۔(لسان العرب۔12/124،ط، بیروت)
اصطلاحی معنی : حضرات فقہاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کی اصطلاح میں کفّ ثوب کا معنی ہے ''نمازمیں کپڑے کو موڑنا (فولڈ کرنا) اور سجدہ میں جاتے ہوئے آگے یا پیچھے سے کپڑے کو اٹھانا''تاکہ اس پر مٹی وغیرہ نہ لگے۔     

(2)اسبال کی لغوی اوراصطلاحی معنیٰ:

اسبال :لغوی اعتبار سے اس کا معنی ہے ،کسی چیز کو اوپر سے نیچے کی طرف چھوڑنا ۔

تاہم" اسبال "کا لفظ فقہی مسائل میں چند امور میں  استعمال ہوتا ہے ،اور ہر مقام میں اس کا معنی الگ الگ ہے ،فقہاء کرام کی اصطلاح میں اسبال یا اسدال فی الصلوۃ کا معنی ہے ،نماز کی حالت میں کسی چادر یا کپڑے کو بغیر پہنے کندھوں پر ڈال کر نیچے چھوڑ دینا  اسبال کہلاتا ہے ،اور یہ نماز کی حالت میں مکروہ ہے ،چاہے تکبرکی بناء پر ہو یا نہ ہو ،لیکن تکبراًشلوار کو اس طرح چھوڑ دینا کہ  ٹخنے کھلے نہ رہیں یہ حرام ہے ،اگر بغرض تکبر نہ ہو بلکہ عادۃً ایسا کیا جائے تو مکروہ ہے اور اگر غیر ارادی طور پر کبھی  لٹک جائے تو مکروہ نہیں۔

 مذکورہ تفصیل کے بعد  سائل کے سوال کا جواب یہ ہے کہ  اگر پائجامہ وغیرہ ٹخنے سے نیچے ہو تو کم از کم نماز سےپہلےضرور اونچا کرلینا چاہیے خواہ پائینچے موڑکر ،یا نیفے کے پاس کپڑا کا کچھ حصہ موڑکر تاکہ نماز ناقص نہ ہو اور اس پر مکمل ثواب حاصل ہو، یہ پائجامہ وغیرہ ٹخنے سے اوپر کرنے کے لیے نمازسے پہلےپائینچے موڑنا یا نیفے کے پاس کپڑ‬ے کا کچھ حصہ موڑنا مکروہ نہیں ہے؛ کیوں کہ یہ اُس کف ثوب (کپڑا سمیٹنے) میں داخل نہیں، جس سے حدیث میں منع کیا گیا ہے،وہ نماز کے اندر یہ کام کرنے سے منع کیا گیاہے نہ کہ نماز سے پہلے،یہ کراہت داخل صلاۃ کی ہے۔

حدیث کا صحیح محمل :

 نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ"وعن أبي هريرة .... وإن الله تعالى لا يقبل صلاة رجل ‌مسبل إزاره» ."( رواه أبو د)

ترجمہ:حضرت ابو هريره رضی الله عنه سے روايت هے رسول اللهﷺ کا ارشادہے "بے شک اللہ تعالیٰ ایسےآدمی کی نماز کو قبول نہیں فرماتا جو اپنی شلوار کو ٹخنوں سے نیچے لٹکائے ۔"

اس کی شرح میں  ملاعلی قاریؒ لکھتے ہیں کہ اس سے مراد یہ ہے کہ  اللہ تعالیٰ ازار لٹکانے والے کی نماز کامل طور پر قبول نہیں فرماتے اگرچہ فرض ذمہ سے ساقط ہو جائے گا۔

 اور جس حدیث   ميں كپڑے سميٹنے كي  ممانعت  كا ذكر هے ،اس کا تعلق غیر ضروری طور پر یا مٹی سے بچنے کے لیے نماز کے دوران کپڑے سمیٹنے سے ہے، نماز سے پہلے سمیٹنا اور موڑنا اس حدیث کے مفہوم میں داخل نہیں ہے۔

(۲)آستین کو موڑ کر نماز پڑھنے سے متعلق بعض فقہائے کرام نے مطلقاً موڑنےکو مکروہ کہا جب کہ دیگر فقہائے کرام نے کہنیوں تک موڑنےکو مکروہ قرار دیاہے،جب کہ یہ حکم نماز سے پہلے موڑنے کی صورت میں ہے اور اگر کوئی نماز کی حالت میں  موڑے تو وہ عمل کثیر ہونے کی وجہ سے نماز فاسد ہوجائےگی۔

فائدہ :

  فقہائے کرام نے ایسا لباس سلوانا ہی مکروہ قرار دیا ہے جس میں پائنچے ٹخنوں سے نیچے ہوں، سو اولاً: لباس ہی شریعت کے مطابق سلوایا جائے، ثانیاً: شلوار یا پینٹ پاؤں کی جانب سے موڑنے میں لباس کی ہیئت تبدیل ہونے سے جو کراہت آتی ہے وہ کراہتِ تنزیہی ہے، جب کہ ٹخنے ڈھانپنا نماز سے باہر اور اندر مکروہ تحریمی  (ناجائز) ہے؛  لہٰذا اگر کسی کی شلوار  وغیرہ لمبی ہو تو  اسے اوپر یا نیچے کی جانب سے موڑ دینا چاہیے، کیوں کہ ٹخنے ڈھکنے کی کراہت تحریمی اور شدید ہے، جو حکم کے اعتبار سے ناجائز ہے، اس کےمقابلے میں شلوار یا پینٹ کو نیچے کی جانب سے فولڈ کرنے کی کراہت کم ہے، اس لیےشلوار یا پینٹ لمبی ہو تو نماز سے پہلے اسے ضرورفولڈ کرلینا چاہیے۔

صحیح بخار ی میں ہے :

"حدثنا موسى بن إسماعيل قال: حدثنا أبو عوانة، عن عمرو، عن طاوس، عن ابن عباس رضي الله عنهما، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:(أمرت أن أسجد على سبعة، لا ‌أكف شعرا ولا ثوبا)."

(باب: لا يكف ثوبه في الصلاة،ج:1،ص؛281 ،ط:دارابن كثير)

مرقاۃ المفاتیح   شرح مشکاۃ المصابیح میں ہے :

"(وعن أبي هريرة قال: بينما رجل يصلي مسبل إزاره) : صفة بعد صفة لرجل أي: مرسلة أسفل من الكعب تبخترا وخيلاء، قال ابن الأعرابي: المسبل الذي يطول ثوبه ويرسله إلى الأرض يفعل ذلك تبخترا واختيالا اهـ، وإطالة الذيل مكروهة عند أبي حنيفة والشافعي في الصلاة وغيرها، ومالك يجوزها في الصلاة دون المشي لظهور الخيلاء فيه، (قال له رسول الله صلى الله عليه وسلم) ، أي: بعد صلاته لكون صلاته صحيحة، فأراد أن يبين له أنها غير مقبولة، فقال: (اذهب فتوضأ) : قيل: لعل السر في أمره بالتوضؤ، وهو طاهر أن يتفكر الرجل في سبب ذلك الأمر، فيقف على ما ارتكبه من المكروه، وأن الله ببركة أمر رسول الله عليه السلام إياه بطهارة الظاهر يطهر باطنه من دنس الكبر ; لأن طهارة الظاهر مؤثرة في طهارة الباطن ذكره الطيبي (فذهب وتوضأ ثم جاء) : فكأنه جاء غير مسبل إزاره (فقال رجل: يا رسول الله ما لك أمرته أن يتوضأ؟) ، أي: والحال أنه طاهر [قال: ( «إنه كان يصلي وهو مسبل إزاره» ) : وإن الله لايقبل، أي: قبولا كاملا صلاة رجل مسبل إزاره، ... و أخرج الطبراني: «أنه عليه السلام أبصر رجلا يصلي، وقد أسدل ثوبه فدنا منه عليه السلام فعطف عليه ثوبه»."

(كتاب الصلوة، باب الستر، ج:2 ،ص:634 ،ط:دارالفكر)

الموسوعۃ الفقھیۃ میں ہے :

"‌‌إسبال"

‌‌التعريف:

1 - من معاني الإسبال لغة: إرسال الشيء من علو إلى سفل، كإسبال الستر والإزار، أي إرخاؤه، والإسدال بمعناه (1) .

ولا يخرج استعمال الفقهاء عن هذا المعنی ...

‌‌الحكم الإجمالي:

4 - الإسبال أو الإسدال بمعنى الإرسال والإرخاء، يستعملها الفقهاء في أمور عديدة، ويختلف الحكم بحسب الموضع.

فإسدال الثوب في الصلاة - بمعنى إرساله من غير لبس - مكروه عند جمهور الفقهاء مطلقا، سواء أكان للخيلاء، أم لغيرها، وصورته: أن يجعل ثوبه على رأسه أو كتفه، ويرسل أطرافه من جانبيه، دون رفع أحدهما، وتحته ما يستر عورته، وهذا مشابه لاشتمال اليهود. أما إرسال الإزار خيلاء فهو حرام."

(اسبال....ج:3، ص:144، ط:دارالفكر)

مرقاة المفا تیح  شرح مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"و لایجوز الإسبال تحت الکعبین إن کان للخیلاء، و قد نصّ الشافعی علی أن التحریم مخصوص بالخیلاء ؛ لدلالة ظواهر الأحادیث علیها ، فإن کان للخیلاء فهو ممنوع منع تحریم."

( کتاب اللباس، ج:8، ص:198، ط:دارالفکر)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(و) كره (كفه) أي رفعه و لو لتراب كمشمر كم أو ذيل (و عبثه به) أي بثوبه (و بجسده) للنهي ... (قوله: أي رفعه) أي سواء كان من بين يديه أو من خلفه عند الإنحطاط للسجود، بحر. و حرر الخير الرملي ما يفيد أن الكراهة فيه تحريمية."

(‌‌كتاب الصلاة، ‌‌باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، ج:1، ص:640، ط: سعيد)

وفیه ایضاً:

"(قوله كمشمر كم أو ذيل) أي كما لو دخل في الصلاة وهو مشمر كمه أو ذيله، وأشار بذلك إلى أن الكراهة لا تختص بالكف وهو في الصلاة كما أفاده في شرح المنية، لكن قال في القنية: واختلف فيمن صلى وقد شمر كميه لعمل كان يعمله قبل الصلاة أو هيئته ذلك اهـ ومثله ما لو شمر للوضوء ثم عجل لإدراك الركعة مع الإمام. وإذا دخل في الصلاة كذلك وقلنا بالكراهة فهل الأفضل إرخاء كميه فيها بعمل قليل أو تركهما؟ لم أره: والأظهر الأول بدليل قوله الآتي ولو سقطت قلنسوته فإعادتها أفضل تأمل. هذا، وقيد الكراهة في الخلاصة والمنية بأن يكون رافعا كميه إلى المرفقين. وظاهره أنه لا يكره إلى ما دونهما. قال في البحر: والظاهر الإطلاق ‌لصدق ‌كف ‌الثوب على الكل اهـ ونحوه في الحلية، وكذا قال في شرح المنية الكبير: إن التقييد بالمرفقين اتفاقي. قال: وهذا لو شمرهما خارج الصلاة ثم شرع فيها كذلك، أما لو شمر وهو فيها تفسد لأنه عمل كثير."

(‌‌كتاب الصلاة، ‌‌باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، ج:1، ص:640، ط: سعيد)

درر الحكام شرح غرر الأحكام میں ہے:

"وقال في البحر ويدخل في كف الثوب تشمير كميه كما في فتح القدير وظاهره الإطلاق. و في الخلاصة و منية المصلي قيد الكراهة ‌بأن ‌يكون ‌رافعًا ‌كميه إلى المرفقين و ظاهره أنه لايكره إذا كان رفعهما إلى ما دونهما، و الظاهر الإطلاق لصدق كف الثوب على الكل."

(كتاب الطهارة، مكروهات الصلاة، ج:1، ص:106، ط: دار الكتاب الإسلامي)

فتاویٰ محمودیہ میں ہے:

سوال: کسی شخص کی آستین لمبی ہے ان کو موڑ کر نماز پڑھناجائز ہے یا نہیں ؟

الجواب حامداً ومصلیاً:

گٹے تک موڑے تو ٹھیک ہے۔

(زیر عنوان:آستین چڑھا کر نماز پڑھنا، کتاب الصلاۃ،  باب مایفسد الصلوۃ ومایکرہ فیھا، ج:6، ص:252، ط: ادراۃ الفاروق)

کفایت المفتی میں ہے:

سوال:اگر زید نماز اس طرح ادا کرتاہے کہ جو عادۃًخلاف ہے جیسے آستین چڑھی ہوئی یا گریبان کھلا ہواہو تواس شخص کی نماز مکروہ تنزیہی ہے یا نہیں؟

جواب:حالت صلوٰۃ میں اگرآستین چڑھی ہوئی ہو تو نماز مکروہ ہوگی اوراگر گلا کھلا ہوا ہو تونماز مکروہ نہیں ہوگی۔

(زیر عنوان:آستین چڑھا کر نماز پڑھنا مکروہ ہے، کتاب الصلاۃ، اٹھارواں باب مفسدات ومکروہات نماز، ج:3، ص:428، ط: دارالاشاعت اردوبازار کراچی)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144504101693

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں