بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 صفر 1443ھ 19 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

کفن میں کمی کرنا اور کفن کی کٹائی میں غلطی کرنا


سوال

اگر میت کو کفناتے وقت کوئی چیز رہ جائے تو کیا کرنا چاہیے؟  اور اگر چادر یا کرتہ وغیرہ کم کٹ گیا تودوسراکفن لانا چاہیے یا وہی پہنا دینا چاہیے؟

جواب

ملحوظ رہے کہ مرد کے  کفنِ سنت میں تین چیزیں یعنی  قمیص،  اِزار اور چادر شامل ہیں، جب کہ عورت کے کفنِ سنت میں ان تین کپڑے کے ساتھ ساتھ  سینہ بند اور سر کی اوڑھنی (سر بند ) بھی شامل ہے،  لیکن اگر کفنِ سنت دستیاب نہ ہو  تو مرد کو  دو اور عورت کو تین کپڑوں میں دفنانا بھی جائز ہے، اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو  ایک کپڑے میں بھی دفنانا جائز ہے، لیکن بلا ضرورت ایسا کرنا مکروہ ہے،  لہذا تکفین کے وقت اگر کوئی  چیز  سنت مقدار سے کم ہو   لیکن  سہولت سے اس کا انتظام کرنا  ممکن  ہو تو اس کا انتظام کر لینا چاہیے، اور اگر انتظام کرنا نہایت دشوار ہو  جس کی وجہ سے تدفین میں تاخیر بھی لازم آتی ہو تو  سنت مقدار کو ترک کیا جا سکتا ہے۔

پھر اگر دورانِ تکفین کسی کپڑے کو غلط کاٹ دیا جائے لیکن اس کو کسی طرح اپنے محل میں استعمال کرنا ممکن ہو تو دوسرے کپڑے کے بندوبست کی ضرورت نہیں، اُسی کو استعمال کر لیا جائے، اور اگر وہ ایسا غلط کٹ گیا ہو کہ وہ اپنے محل پر استعمال کرنے کے لائق ہی نہ رہا ہو تو ایسی صورت میں اگر  سہولت سے دوسرے کپڑے  کا انتظام کرنا ممکن ہو تو کر لینا چاہیے۔

حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح (ص: 575):

"وأما عدد أثوابه فهي على ثلاثة أقسام سنة وكفاية وضرورة الأول "و" هو "كفن الرجل سنة" ثلاثة أثواب " ....  "و" الثاني كفن "كفاية"  للرجل "إزار ولفافة" في الأصح .....  "وكفن الضرورة" للمرأة والرجل ويكتفي فيه بكل "ما يوجد".

مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (1/ 181):

"(وعند الضرورة يكفي الواحد ولا يقتصر عليه) أي على الواحد (بلا ضرورة) فإنه مكروه بلا ضرورة."

حاشية الطحطاوي علي المراقي (٥٧٥ - ٥٧٨):

"كفن الرجل سنة" ثلاثة أثواب "قميص من أصل العنق إلى القدمين بلا دخريص وكمين "وإزار" من القرن إلى القدم "و" الثالث "لفافة" تزيد على ما فوق القرن والقدم ليلف بها الميت وتربط من أعلاه وأسفله ... وتزاد المرأة" على ما ذكرناه للرجل "في" كفنها على جهة "السنة خمارا لوجهها" ورأسها "وخرقة" عرضها ما بين الثدي إلى السرة وقيل إلى الركبة كيلاينتشر الكفن بالفخذ وقت المشي بها "لربط ثدييها" فسنة كفنها درع وإزار وخمار وخرقة ولفافة..." الخ (باب أحكام الجنائز، ص: ٥٧٥ - ٥٧٨)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144206201003

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں