بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 شوال 1445ھ 22 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

کئی سال کے روزے توڑنے کی وجہ سے کفارہ کا حکم


سوال

 میں نے کئی سال کے روزے شاید 7 یا 8 سال کے کچھ  روزے توڑے ہیں گرمی کی وجہ سے, اب ان کے لیے میں نے دو دفعہ 60 روزے  رکھے ہیں  کفارے کے طور پر, مجھے مزید کتنا کفارہ کرنا ہو گا؟

جواب

اگر متعدد روزے عمداً  کھانے پینے سے توڑے ہوں تو یہ روزے خواہ ایک رمضان کے ہوں یا کئی رمضان کے ان سب کے بدلے میں ایک کفارہ کی ادائیگی کافی ہوگی، البتہ اگر کفارہ ادا کرنے کے بعد پھر کوئی روزہ عمداً   کھانے یا پینے سے توڑا تو اس کا کفارہ الگ ادا کرنا ہوگا۔

اور  اگر ایک رمضان میں متعدد روزے قصداً جماع سے توڑے ہوں تو ادائیگی کفارہ میں تداخل ہوگا،  یعنی ان سب کے بدلہ میں ایک کفارہ ادا کرنا کافی ہوگا، البتہ اگر جماع کے ذریعہ دو یا دو سے زائد رمضانوں میں روزے توڑے ہوں تو تداخل نہیں ہوگا، بلکہ ہر رمضان کے روزوں کا کفارہ الگ الگ ادا کرنا لازم ہوگا۔ ( امدادالفتاوٰی :٢/ ١٣٤)

لہٰذا اگر آپ نے کئی مختلف رمضانوں میں کئی روزے کھا پی کر توڑے تھے تو  سچے دل سے توبہ و استغفار کیجیے، اور اگر آپ نے بطورِ کفارہ دو مرتبہ ساٹھ ساٹھ روزے مسلسل رکھ لیے ہیں، اور اس کے بعد دوبارہ کوئی روزہ نہیں توڑا تو کفارے میں مزید روزے رکھنے کی ضرورت نہیں ہے، البتہ اگر قضا روزے اب تک نہیں رکھے تو صرف قضا روزے رکھنے ہوں گے۔ اور اگر آپ نے کفارے کی ادائیگی کے بعد پھر رمضان المبارک کا کوئی روزہ کھا پی کر توڑا ہو تو آپ کو پھر سے کفارہ ادا کرنا ہوگا۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 101):

’’ولو جامع في رمضان متعمداً مراراً بأن جامع في يوم ثم جامع في اليوم الثاني ثم في الثالث ولم يكفر فعليه لجميع ذلك كله كفارة واحدة عندنا، ولو جامع في يوم ثم كفر ثم جامع في يوم آخر فعليه كفارة أخرى في ظاهر الرواية، ولو جامع في رمضانين ولم يكفر للأول فعليه لكل جماع كفارة في ظاهر الرواية، وذكر محمد في الكيسانيات أن عليه كفارة واحدة، وكذا حكى الطحاوي عن أبي حنيفة‘‘.

الدر المختار (2/ 413):

’’ولو تكرر فطره ولم يكفر للأول يكفيه واحدة ولو في رمضانين عند محمد، وعليه الاعتماد، بزازية ومجتبى وغيرهما، واختار بعضهم للفتوى أن الفطر بغير الجماع تداخل وإلا لا‘‘.

حاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 413):

’’(قوله: وعليه الاعتماد) نقله في البحر عن الأسرار، ونقل قبله عن الجوهرة: لو جامع في رمضانين فعليه كفارتان وإن لم يكفر للأولى، في ظاهر الرواية، وهو الصحيح. قلت: فقد اختلف الترجيح كما ترى ويتقوى الثاني بأنه ظاهر الرواية‘‘.  فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144109203289

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں