بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1445ھ 22 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

حفاظتی مقام پر ہی جماعت کرانا جب کہ مسجد قریب ہو


سوال

میرے پاس گارڈز اور چوکیدار ڈیوٹی کرتے ہیں اور وہ باہر نہیں جاسکتے، مسجد زیادہ دور نہیں، اذان کی آواز اچھے طریقہ سے آتی ہے،کیا وہ اپنی ڈیوٹی کی جگہ جماعت کر اسکتے ہیں اور میں ان کی امامت کر سکتا ہوں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر  گارڈز اور چوکیدارکا مسجد کی جماعت میں شریک ہونے سے جان اور مال کےنقصان کا اندیشہ  ہو  تو اس صورت میں    حفاظتی مقام پر ہی جماعت   کرا لیں ،وگرنہ مسجد میں جاکر ہی جماعت سے نماز ادا کریں ،اور جہاں تک سائل کی بات ہے تو سائل مسجد میں ہی جماعت کے ساتھ نماز ادا کرے ۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وخوف على ماله (قوله وخوف على ماله) أي من لص ونحوه إذا لم يمكنه غلق الدكان أو البيت مثلا، ومنه خوفه على تلف طعام في قدر أو خبز في تنور تأمل، وانظر هل التقييد بماله للاحتراز عن مال غيره؟ والظاهر عدمه: لأن له قطع الصلاة له ولا سيما إن كان أمانة عنده كوديعة أو عارية أو رهن مما يجب عليه حفظه تأمل"

(کتاب الصلاۃ ،باب الامامۃ،ج:1،ص:556۔ط:سعید)

فتاوی عالمگیریہ میں  ہے:

"وتسقط الجماعة بالأعذار حتى لا تجب على المريض والمقعد والزمن ومقطوع اليد والرجل من خلاف ومقطوع الرجل والمفلوج الذي لا يستطيع المشي والشيخ الكبير العاجز والأعمى عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - والصحيح أنها تسقط بالمطر والطين والبرد الشديد والظلمة الشديدة. كذا في التبيين وتسقط بالريح في الليلة المظلمة وأما بالنهار فليست الريح عذرا وكذا إذا كان يدافع الأخبثين أو أحدهما أو كان إذا خرج يخاف أن يحبسه غريمه في الدين أو يريد سفرا وأقيمت الصلاة فيخشى أن تفوته القافلة أو كان قيما لمريض أو يخاف ‌ضياع ‌ماله وكذا إذا حضر العشاء وأقيمت صلاته ونفسه تتوق إليه، وكذا إذا حضر الطعام في غير وقت العشاء ونفسه تتوق إليه. كذا في السراج الوهاج."

(کتاب الصلاۃ ،فصل فی الجماعۃ،ج:1،ص:83،ط:رشیدیہ)

حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے:

"قوله: "وخوف ظالم" أي على نفسه أو ماله أو خوف ‌ضياع ‌ماله أو خوف ذهاب قافله لو اشتغل بالصلاة جماعة"

(کتاب الصلاۃ ،فصل یسقط حضور الجماعۃ بواحد من ثمانیۃ عشر شیئا،ص:297،ط:دار الکتب العلمیہ )

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144503101468

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں