بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ذو القعدة 1441ھ- 11 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

عورت کے لیے گھریلو کام کاج کے دوران مردوں کی کیپ و چپل پہننا


سوال

اگر گھر میں نا محرم مرد کا آنا جانا نا ہو  تو خواتین کے لیے ضرورت پر مردانی کیپ پہن کر اور مردوں  کی چپل یا جوتے وغیرہ پہن کر گھریلوں کام کر نے کی گنجائش ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  مردوں کی کیپ یا چپل و  جوتا  پہننے سے مقصود اگر  مردوں کی مشابہت اختیار کرنا ہو تو شرعاً اس کی اجازت نہیں، احادیث میں ایسے مردو  زن پر لعنت کی گئی ہے، جو خلافِ جنس کی مشابہت اختیار کرتے ہیں۔

اگر مشابہت مقصود نہ ہو، بلکہ بوجہ ضرورت پہن لے (مثلاً قریب میں زنانہ جوتی موجود نہ ہو، یا بالوں کو سمیٹنے کے لیے قریب میں کوئی اور چیز نہ ہو) اور گھر میں کوئی غیر محرم بھی نہ ہو تو گنجائش ہوگی۔  اور اگر کام کاج کے دوران بے خیالی میں پہن لی تو حرج نہیں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144108200902

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں