بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 شوال 1445ھ 14 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

کے ایم سی سے زمین خریدنا


سوال

کیا معروف حکومتی ادارے "کے ایم سی" سے زمین خریدنا جائز ہے؟ کیوں کہ یہ ادارہ زمین خریدنے والے کو مالکانہ حقوق تو دے دیتا ہے ،لیکن مالک سے ہر ماہ ایک کرایہ بھی لیتا ہے۔ نیز موجودہ کے ایم سی کے ساتھ کام کی  کوئی صورت ممکن ہے؟

جواب

اگر حکومتی ادارے "کے ایم سی" کو حکومت کی جانب سے زمین فروخت کرنے کی اجازت ہے ،تو اس سے زمین خریدنا جائز ہوگا،اور زمین فروخت کرنے کے بعد"کے ایم سی "کے لیے کرایہ لینا جائز نہیں ہوگا،،اور اگر حکومت کی جانب سے "کے ایم سی" کو زمین فروخت کرنے کی اجازت نہیں،پھر اس سے زمین خریدنا جائز نہیں ہوگا۔

ہدایہ میں ہے:

"قال: "كل عقد جاز أن يعقده الإنسان بنفسه جاز أن يوكل به غيره" لأن الإنسان قد يعجز عن المباشرة بنفسه على اعتبار بعض الأحوال فيحتاج إلى أن يوكل غيره فيكون بسبيل منه دفعا للحاجة."

(كتاب الوكالة، ج:3، ص:136، ط:دار احياء التراث العربي)

وفیہ ایضا:

"قال: "والوكيل بالبيع يجوز بيعه بالقليل والكثير والعرض عند أبي حنيفة رحمه الله."

(كتاب الوكالة، ج:3، ص:145، ط:دار احياء التراث العربي)

مجلۃ الاحکام  العدلیة میں ہے:

"کل یتصرف فی ملکه کیفما شاء ،لکن اذا تعلق حق  الغیر به فیمنع المالک من تصرفه علي وجه الاستقلال."

(كتاب الشركات، ص:230، ط:نور محمد)

المبسوط للسرخسی میں ہے:

"التوكيل ‌بالبيع والشراء معتبر بنفس البيع والشراء."

(كتاب الوكالة، ج:19، ص:38، ط:دار المعرفة)

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

"أما تعريفه فمبادلة المال بالمال بالتراضي... وأما حكمه فثبوت الملك في المبيع للمشتري وفي الثمن للبائع."

(كتاب البيوع، الباب الأول في تعريف البيع وركنه وشرطه وحكمه وأنواعه، ج:3، ص:2، ط:دارالفكر بيروت)

ہدایہ میں ہے:

"ثم جملة المذهب فيه أن يقال: كل شرط يقتضيه العقد كشرط الملك للمشتري لا يفسد العقد لثبوته بدون الشرط، وكل شرط لا يقتضيه العقد وفيه منفعة لأحد المتعاقدين أو للمعقود عليه وهو من أهل الاستحقاق يفسده كشرط أن لا يبيع المشتري العبد المبيع؛ لأن فيه زيادة عارية عن العوض فيؤدي إلى الربا، أو؛ لأنه يقع بسببه المنازعة فيعرى العقد عن مقصوده ۔۔۔

قال: "وكذلك لو باع عبدا على أن يستخدمه البائع شهرا أو دارا على أن يسكنها أو على أن يقرضه المشتري درهما أو على أن يهدي له هدية"؛ لأنه شرط لا يقتضيه العقد وفيه منفعة لأحد المتعاقدين؛ ولأنه عليه الصلاة والسلام نهى عن بيع وسلف؛ ولأنه لو كان الخدمة والسكنى يقابلهما شيء من الثمن يكون إجارة في بيع، ولو كان لا يقابلهما يكون إعارة في بيع. وقد نهى النبي عليه الصلاة والسلام عن صفقتين في صفقة."

(كتاب البيوع، باب البيع الفاسد، ج:3، ص:49، ط:دار احياء التراث العربي)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144411100924

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں