بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 محرم 1446ھ 13 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

جزاکم اللہ احسن الجزاء کی نحوی ترکیب


سوال

"جزاکم اللہ احسن الجزاء"  کی ترکیب بتائیں!

جواب

"جَزَاكُمُ اللّٰهُ  أَحْسَنَ الْجَزَاءِ" کی نحوی ترکیب مندرجہ ذیل ہے:

جَزَا: فعل ماضی، كُمْ: ضمیرِ منصوب متصل، محلّاً منصوب مفعول بہ مقدم، اللّٰهُ لفظِ اللہ مفرد منصرف صحیح، مرفوع ضمہ لفظی کے ساتھ فاعل، أَحْسَنَ: اسمِ تفضیل  هُوَ ضمیر فاعل مقدر کے ساتھ مضاف، الجَزَاءِ: مفرد منصرف صحیح مجرور کسرہ لفظی کے ساتھ مضاف الیہ، مضاف مضاف الیہ مل کر مفعولِ مطلق ہوجائے گا جَزَا فعل کے لیے۔

جَزَا فعل اپنے فاعل، اور مفعول بہ ومفعول مطلق سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ دعائیہ ہوجائے گا۔

حاشیۃ الصبان علی شرح الاشمونی علی الفیۃ بن مالک میں ہے:

"(وقد ينوب عنه) أي عن المصدر في الانتصاب على المفعول المطلق (ماعليه) أي على المصدر (دلّ) وذلك ستة عشر شيئًا فينوب عن المصدر المبين (للنوع) الأوّل: كليته (كجدّ كلّ الجدّ) الثاني: بعضيته نحو: ضربته بعض الضرب .... الرابع: صفته نحو: سرت أحسن السير".

(المفعول المطلق، ج:2، ص:174، ط:المكتبة العصرية، بيروت)

فقط والله اعلم 


فتوی نمبر : 144205200050

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں