بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ربیع الاول 1443ھ 25 اکتوبر 2021 ء

دارالافتاء

 

جسم پر ٹیٹو بنے ہونے کی صورت میں وضو، غسل اور نماز کا حکم


سوال

کیا ٹیٹو کے ساتھ وضو اور غسل ہو جاتا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جسم کے کسی بھی  حصہ پر ٹیٹو بنوانا شرعاً حرام اور گناہِ کبیرہ ہے، اور ٹیٹو بنانے اور بنوانے والوں پر اللہ رب العزت کی جانب سے لعنت کی گئی ہے۔

 جیساکہ صحیح البخاری میں ہے:

"عن ابن عمر -رضي الله عنه- عن النبي صلّى الله عليه وسلّم، حيث قال: لعَنَ اللَّهُ الواصلةَ والمُستوصِلةَ، والواشمةَ والمُستوشِمة".

( رواه البخاري، عن عبد الله بن عمر،باب الوصل في الشعر، ج: 7، صفحہ: 165، رقم الحدیث: 5937، ط:  دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)

المنهاج شرح صحیح مسلم بن الحجاج میں ہے:

"الوشم وهي أن تغرز إبرة أو مسلة أو نحوهما في ظهر الکف أو المعصم أو الشفة أو غیر ذلک من بدن المرأة حتی یسیل الدم، ثم تحشو ذلک الموضع بالکحل أو النورة فیخضر ... فإن طلبت فعل ذلک بها فهي مستوشمة، وهو حرام علی الفاعلة والمفعول بها باختیارها والطالبة له ... وسواء في هذا کله الرجل والمرأة . والله أعلم".

(کتاب اللباس والزینة ، باب تحریم فعل الواصلة والمستوصلة والواشمة والمستوشمة، ج:7، صفحہ: 231، تحت الرقم :۲۱۲۵)

لہذا صورتِ مسئولہ میں جسم پر ٹیٹو بنانے کی قطعاً اجازت نہیں ہے، اور اگر کسی نے جسم پر ٹیٹو بنوا رکھے ہوں تو اسے چاہیے کہ وہ اللہ کے حضور سچے دل سے توبہ کرے، اور اگر اسے زائل کرنا ممکن ہو تو بذریعہ علاج جسم سے اسے ختم کروائے، موجودہ دور میں اسے جدید طریقہ علاج سے مشقت کے بغیر زائل کرنا بھی ممکن ہوگیا ہے۔ 

رہی بات وضو و غسل کی تو دونوں ہوجاتے ہیں اور ٹیٹو کے ساتھ نماز بھی ہوجاتی ہے۔

"فتح الباری شرح صحیح البخاری" میں ہے:

"وقال أبو داود في السنن الواشمة التي تجعل الخيلان في وجهها بكحل أو مداد والمستوشمة المعمول بها انتهى وذكر الوجه للغالب وأكثر ما يكون في الشفة وسيأتي عن نافع في آخر الباب الذي يليه أنه يكون في اللثة فذكر الوجه ليس قيدا وقد يكون في اليد وغيرها من الجسد وقد يفعل ذلك نقشا وقد يجعل دوائر وقد يكتب اسم المحبوب وتعاطيه حرام بدلالة اللعن كما في حديث الباب ويصير الموضع الموشوم نجسا لأن الدم انحبس فيه فتجب إزالته إن أمكنت ولو بالجرح إلا إن خاف منه تلفا أو شينا أو فوات منفعة عضو فيجوز إبقاؤه وتكفي التوبة في سقوط الإثم ويستوي في ذلك الرجل والمرأة".

(قوله باب المتفلجات للحسن، ج: 10، صفحہ: 372، ط:  دار المعرفة - بيروت)

فتاوی شامی میں ہے:

"يستفاد مما مرّ حكم الوشم في نحو اليد، وهو أنه كالاختضاب أو الصبغ المتنجس؛ لأنه إذا غرزت اليد أو الشفة مثلاً بإبرة، ثمّ حشي محلها بكحل أو نيلة ليخضر، تنجس الكحل بالدم، فإذا جمد الدم، والتأم الجرح بقي محله أخضر، فإذا غسل طهر؛ لأنه أثر يشق زواله؛ لأنه لايزول إلا بسلخ الجلد أو جرحه، فإذا كان لايكلف بإزالة الأثر الذي يزول بماء حار أو صابون فعدم التكليف هنا أولى. وقد صرح به في القنية فقال: ولو اتخذ في يده وشماً لايلزمه السلخ ..."الخ.

(كتاب الطهارة، باب الأنجاس، مطلب في حكم الوشم، ج: 1، صفحہ: 330، ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144211200739

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں