بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1442ھ 29 جولائی 2021 ء

دارالافتاء

 

جنبی شخص کے مسجد جانے سے مسجد کے ناپاک ہونے کا حکم، جنبی شخص کے جسم سے کوئی چیز لگنے سے اس چیز کی پاکی کا حکم


سوال

اگر کوئی شخص حالتِ  جنابت میں مسجد کے اندر  گیا تو  کیا مسجد کو دھونا پڑے گا ؟اور جنبی شخص اپنے جسم سے جو کچھ چھوتا اس کے متعلق کیا حکم ہے؟

جواب

جنابت کی وجہ سے انسان کا جسم ظاہری طور پر ناپاک نہیں ہوتا ہے، بلکہ صرف حکمًا ناپاک ہوتا ہے، یعنی جنابت کی ناپاکی ظاہری نہیں، بلکہ حکمی ہے، اس  لیے جنبی شخص کے حالتِ  جنابت میں مسجد جانے سے مسجد ناپاک نہیں ہوگی، اسی طرح اگر جنبی شخص اپنے ہاتھ سے کسی چیز کو چھولے یا کوئی چیز اس کے جسم پر لگ جائے تو  وہ چیز ناپاک نہیں ہوتی بشرطیکہ  ہاتھ  یا جسم کے اس حصہ پر کوئی ظاہری تر نجاست لگی ہوئی نہ ہو۔   چنانچہ ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ جنابت کی حالت میں تھے کہ رسول اللہ ﷺ سے ملاقات ہوگئی، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ  چھپکے سے گئے  اور  جلدی  سے  غسل کرکے آگئے، رسول اللہ ﷺ   نے  دریافت  فرمایا کہ آپ کہاں گئے تھے؟ انہوں نے عذر کیا کہ میں ناپاک تھا، اس لیے غسل کرنے گیا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: مؤمن ناپاک نہیں ہوتا، یعنی جنابت سے پورا جسم حقیقتًا ناپاک نہیں ہوتا، بلکہ اس سے حکمی ناپاکی لاحق ہوتی ہے، لہٰذا جنبی کے ہاتھ ملانے سے دوسرے شخص کا جسم ناپاک نہیں ہوگا، نہ ہی اس پر غسل فرض ہوگا۔

اسی طرح احادیثِ مبارکہ میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ ازواجِ مطہرات سے قربت کے بعد بعض اوقات سردی کے ایام میں غسل کرکے  اپنی زوجہ مطہرہ رضی اللہ عنہا کے غسل کرنے سے پہلے ان کے ساتھ بستر میں لیٹ کر ان کے جسم سے حرارت حاصل فرماتے تھے۔ اور ایام کے دنوں میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا آپ ﷺ کے سر کے بال دھوتی بھی تھیں، اور کنگھی بھی کرتی تھیں، اور آپ ﷺ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی گود میں سر رکھ کر قرآنِ پاک کی تلاوت بھی فرماتے تھے، اور ان کے ساتھ کھانا بھی تناول فرماتے تھے۔

سنن الترمذي (1 / 207):

"عن أبي هريرة : أن النبي صلى الله عليه و سلم لقيه وهو جنب قال: [ فانبجست أي ] فانخنست فاغتسلت ثم جئت، فقال: أين كنت؟ أو أين ذهبت؟ قلت: إني كنت جنبًا، قال: إن المسلم لاينجس. قال أبو عيسى: [ و ] حديث أبي هريرة [ أنه لقي النبي صلى الله عليه و سلم وهو جنب ] حديث حسن صحيح، و قد رخص غير واحد من أهل العلم في مصافحة الجنب ولم يروا بعرق الجنب والحائض بأسًا [ ومعنى قوله فانخنست يعني تنحيت عنه ]".

سنن ابن ماجه - باقي + ألباني - (1 / 178):

"عن أبي هريرة  : أنه لقيه النبي صلى الله عليه و سلم في طريق من طريق المدينة وهو جنب، فانسل، ففقده النبي صلى الله عليه و سلم، فلما جاء قال: (أين كنت يا أبا هريرة ؟) قال: يا رسول الله لقيتني وأنا جنب، فكرهت أن أجالسك حتى أغتسل، فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم: (المؤمن لاينجس)".

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144212200204

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں