بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 صفر 1444ھ 25 ستمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

جنبی شخص کا تلاوت کرنا


سوال

جنبی شخص اگر جان بوجھ کر یا مجبوری کی حالت میں قرآنِ  مجید کی تلاوت کرلے تو کیا کفارہ لازم آئے گا؟

جواب

جنابت کی  حالت میں قرآنِ کریم کی تلاوت   ناجائز  ہے، لہذا اگر کسی نے ایسی حالت میں تلاوت کرلی تو سچے دل سے توبہ و استغفار کرے۔

سنن ابو داؤد میں ہے :

"عن ابن عمر قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لایقرأ القرآن الجنب، و لا الحائض."

(سنن ابن ماجه، باب جاء في قراء ۃ القرآن علی غیر طهارۃ، ۱/۴۴)

ہندیہ میں  ہے :

"لاتقرأ الحائض و النفساء و الجنب شیئًا من القرآن، و الآیة و ما دونها سواء في التحریم علی الأصح."

(الفتاوى الهندية، الباب السادس في الأحكام المختصة بالنساء، الفصل الرابع:  ۱/۳۸)

الدر المختار (1/ 172):

"(و) يحرم به (تلاوة القرآن) ولو دون آية على المختار (بقصده) فلو قصد الدعاء أو الثناء أو افتتاح أمر أو التعليم ولقن كلمة كلمةحل في الأصح، حتى لو قصد بالفاتحة الثناء في الجنازة لم يكره إلا إذا قرأ المصلي قاصدا الثناء فإنها تجزيه؛ لأنها في محلها، فلا يتغير حكمها بقصده (ومسه)".

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144207200724

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں