بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 رجب 1444ھ 28 جنوری 2023 ء

دارالافتاء

 

جمعرات کے دن وفات پانے والے شخص کوعذاب ہوتا ہے یا نہیں؟


سوال

جمعرات کے دن وفات ہو جائے تو میت کو عذاب ہوتاہےیا نہیں؟ 

جواب

رمضان المبارک اور جمعہ کے دن  انتقال کرنے والے دونوں کےبارے میں روایات میں آتا ہے ان سے قبر کا عذاب ہٹادیا جاتا ہے،  جمعہ کی رات یعنی جمعہ سے پہلے والی رات کا بھی یہی حکم ہے، لیکن "جمعرات کے دن"وفات هو جائے تو یہ فضیلت اس میت کو بھی حاصل ہوتی ہے یا نہیں تو اس بارے ميں  کوئی حدیث ہمیں نہیں ملی۔

مسند احمد ميں هے :

"عن عبد الله بن عمرو، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " ما من مسلم ‌يموت ‌يوم ‌الجمعة أو ليلة الجمعة إلا وقاه الله فتنة القبر. "

(147/11،مؤسسة الرسالة)

فتاوی شامی میں ہے :

"قال أهل السنة والجماعة: عذاب القبر حق وسؤال منكر ونكير وضغطة القبر حق، لكن إن كان كافراً فعذابه يدوم إلى يوم القيامة ويرفع عنه يوم الجمعة وشهر رمضان، فيعذب اللحم متصلاً بالروح والروح متصلاً بالجسم فيتألم الروح مع الجسد، وإن كان خارجاً عنه، والمؤمن المطيع لا يعذب بل له ضغطة يجد هول ذلك وخوفه، والعاصي يعذب ويضغط لكن ينقطع عنه العذاب يوم الجمعة وليلتها، ثم لا يعود وإن مات يومها أو ليلتها يكون العذاب ساعةً واحدةً وضغطة القبر ثم يقطع، كذا في المعتقدات للشيخ أبي المعين النسفي الحنفي من حاشية الحنفي ملخصاً."

( 165/2،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144311100074

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں