بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو القعدة 1445ھ 18 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

جمعہ کی اذان کے بعد کاروبار سے حاصل ہونے والی رقم اور اس سے خریدی گئی چیزوں کا حکم


سوال

جمعہ کی اذان کے بعد جو لوگ کاروبار کرتے ہیں ان کی رقم حرام ہو جاتی ہے ،بعد میں اسی رقم سے وہ چیز خریدتے ہیں اور پھر فروخت کرتے ہیں تو اس حرام کی رقم سے خریدی ہوئی چیز لینا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

جمعہ کی پہلی اذان کے بعد خرید و فروخت چھوڑنا واجب ہے ،اور خرید و فروخت میں لگنا حرام ہے، اور اس وقت کیاگیا سودا مکروہِ تحریمی (ناجائز) ہے،اس سے اجتناب کرنا ضروری ہے،البتہ اس دوران اگر کسی نے خرید وفروخت کی، تو اس کی آمدنی کو حرام قرار نہیں دیا جائے گا۔لہذاصورت  مسؤلہ میں مذکورہ آمدنی سے خریدی ہوئی چیزلینا جائز ہے۔

الدرالمختار میں ہے:

'' (ووجب سعي إليها وترك البيع) ولو مع السعي، في المسجد أعظم وزراً (بالأذان الأول) في الأصح، وإن لم يكن في زمن الرسول بل في زمن عثمان. وأفاد في البحر صحة إطلاق الحرمة على المكروه تحريماً''.

(الدر المختار مع رد المحتار،کتاب الصلاۃ ،باب الجمعۃ(2/ 161) ط:سعید)

الفتاوى الهندية "میں ہے:

'' وكره البيع عند أذان الجمعة والمعتبر الأذان بعد الزوال، كذا في الكافي''.

(الفتاوى الهندية،کتاب البیوع،  (3/ 211) ط:داالفکر)

دوسری جگہ فتاویٰ شامی میں ہے:

"(وكره) تحريما مع الصحة (البيع عند الأذان الأول).....وفی الشامی:(قوله وكره تحريما مع الصحة) أشار إلى وجه تأخير المكروه عن الفاسد مع اشتراكهما في حكم المنع الشرعي والإثم، وذلك أنه دونه من حيث صحته وعدم فساده؛ لأن النهي باعتبار معنى مجاور للبيع لا في صلبه ولا في شرائط صحته، ومثل هذا النهي لا يوجب الفساد بل الكراهية كما في الدرر. وفيها أيضا أنه لا يجب فسخه ويملك المبيع قبل القبض ويجب الثمن لا القيمة. اهـ ".

(ردالمحتارعلیٰ الدرالمختار، باب البیع الفاسد، مطلب فی احکام نقصان المبیع فاسدا،101/5 ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144401102046

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں