بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 شعبان 1445ھ 28 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

جمعہ کے دن مسافر ظہر کی کتنی رکعات ادا کرے؟


سوال

جمعہ کے دن  کوئي  مسافر هو تو وہ ظہر  کتنی  پڑھے گا؟

جواب

مسافر اگر جمعہ کے دن شہر میں ہو  اور  سہولت  سے جمعہ کی نماز میں شریک ہونا ممکن ہو تو اسے جمعہ کی نماز میں ہی شریک ہونا چاہیے، یہ بڑی فضیلت والی بات ہے، لیکن بہرحال مسافر کو جمعہ کی نماز میں شریک نہ ہونے کی رخصت بھی شریعتِ مطہرہ نے دی ہے، بہرحال اگر مسافر کسی چھوٹے سے گاؤں میں ہو جہاں جمعہ کی نماز ادا نہیں ہوتی یا  سفر  کی مصروفیت کے باعث شہر میں ہونے کے باوجود  جمعہ کی نماز میں شریک نہ ہوسکے تو اسے ظہر کی نماز قصر  (دو رکعت)   پڑھنی ہوگی۔  البتہ جمعہ کے دن شہر میں ظہر کی نماز جماعت سے پڑھنا مکروہ ہے، لہٰذا وہ انفرادی طور پر ظہر کی نماز ادا کرے گا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"( وفاقدها) أي هذه الشروط أو بعضها (إن) اختار العزيمة و (صلاها) وهو مكلف وقعت فرضاً ... و في البحر: هي أفضل إلا للمرأة".

"(قوله: إن اختار العزيمة) أي صلاة الجمعة؛ لأنه رخص له في تركها إلی الظهر فصارت الظهر في حقه رخصةً، و الجمعة عزيمةً، كالفطر للمسافر هو رخصة له والصوم عزيمة في حقه؛ لأنه أشق. و فيه أيضاً: الظهر لهم رخصة، فدل علی أن الجمعة عزيمة، و هي أفضل إلا للمرأة؛ لأن صلاتها في بيتها أفضل، و أقره في النهر".

( ٢/ ١٥٤ - ١٥٥،ط سعيد) 

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144211200242

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں