بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 جمادى الاخرى 1443ھ 29 جنوری 2022 ء

دارالافتاء

 

جمعہ کی دوسری (خطبہ والی) اذان کا جواب دینے اور اذان کے بعد دعا پڑھنے کا حکم


سوال

کیا  خطبہ کی اذان کا جواب دینا اور اس اذان کے بعد دعا پڑھنا ضروری ہے ؟ 

جواب

جمعہ کی دوسری (خطبہ والی) اذان کا جواب دینا اور اذان کے بعد دعا پڑھنا ضروری نہیں ہے، بلکہ زبان سے جواب دینا یا دعا پڑھنا ہی درست نہیں ہے، ہاں! جمعہ کی دوسری اذان کا جواب دینا ہو اور دعا پڑھنی ہو تو دل ہی دل میں اذان کا جواب دے دیا جائے اور دل ہی دل میں اذان کے بعد دعا پڑھ لی جائے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 399)

’’ قال: وينبغي أن لا يجيب بلسانه اتفاقا في الأذان بين يدي الخطيب.‘‘

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144206201219

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں