بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

جمعہ کی اذان ثانی کے جواب کا حکم


سوال

کیا جمعہ کے دن جمعہ کی نماز کے لیے جو دوسری اذان دی جاتی ہے ، اس کا جواب دینا بھی لازم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ جب امام خطبہ دینے کے لیے  ممبر پر آئے تو اس وقت سے لے کر نماز  کے ختم ہونے تک  نماز اور اور کسی قسم کی باتیں دنیوی ہوں یا دینی اور اذکار کرنا ممنوع ہے، پس اس لیے جمعہ کے دن  دوسری اذان جوامام کے سامنے کھڑے ہو کر دی جاتی ہے اس کا جواب    زبان سے نہیں دیا جائے گا   ،ہاں دل ہی  میں جواب اور دعا مانگنے میں مضائقہ نہیں ۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(إذا خرج الإمام) من الحجرة إن كان وإلا فقيامه للصعود شرح المجمع (‌فلا ‌صلاة ‌ولا ‌كلام إلى تمامها)(قوله: ولا كلام) أي من جنس كلام الناس أما التسبيح ونحوه فلا يكره وهو الأصح كما في النهاية والعناية وذكر الزيلعي أن الأحوط الإنصات ومحل الخلاف قبل الشروع أما بعده فالكلام مكروه تحريما بأقسامه كما في البدائع بحر ونهر وقال البقالي في مختصره وإذا شرع في الدعاء لا يجوز للقوم رفع اليدين ولا تأمين باللسان جهرا فإن فعلوا ذلك أثموا وقيل أساءوا ولا إثم عليهم والصحيح هو الأول وعليه الفتوى وكذلك إذا ذكر النبي - صلى الله عليه وسلم - لا يجوز أن يصلوا عليه بالجهر بل بالقلب وعليه الفتوى رملي (قوله إلى تمامها) أي الخطبة لكن قال في الدرر لم يقل إلى تمام الخطبة كما قال في الهداية لما صرح به في المحيط وغاية البيان أنهما يكرهان من حين يخرج الإمام إلى أن يفرغ من الصلاة"

وفیہ ایضاً:

"قال: وينبغي ‌أن ‌لا ‌يجيب بلسانه اتفاقا في الأذان بين يدي الخطيب، وأن يجيب بقدمه اتفاقا في الأذان الأول يوم الجمعة لوجوب السعي بالنص"

(کتاب الصلاۃ ،باب اذان ،ج:1 ،ص:399،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144501100526

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں