بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 ربیع الثانی 1443ھ 29 نومبر 2021 ء

دارالافتاء

 

جمعہ کے دن نفل روزہ رکھنا


سوال

جمعہ کے دن نفل روزہ کیسا ہے؟

جواب

حدیث شریف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تنہا جمعہ کے دن نفلی روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے، اس لیے جمعے کے دن کو خاص کرکے نفلی روزہ  نہیں رکھنا چاہیے، بلکہ اُس سے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد کا روزہ بھی ملا کر  رکھ لینا چاہیے، ہاں اگر کبھی اتفاقًا کسی جمعے کے دن نفلی روزہ رکھ لیا اور اسے خصوصی فضیلت کا سبب نہ سمجھا تو کوئی حرج نہیں۔

سنن الترمذي (3/ 119):

"عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه و سلم: لايصوم أحدكم يوم الجمعة إلا أن يصوم قبله أو يصوم بعده."

آپ کے مسائل اور اُن کا حل میں ہے:

’’جمعہ کا تنہا روزہ مکروہ ہے، لیکن اگر آپ کو دُوسرے دن رکھنے کی گنجائش نہیں تو کوئی حرج نہیں، روزہ رکھ لیا کریں۔ مگر خاص اس دن روزہ رکھنے کو موجبِ فضیلت نہ سمجھا جائے۔‘‘

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144204200944

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں