بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1441ھ- 27 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

موجودہ حالات میں کمپنی وغیرہ میں جمعہ کی نماز ادا کرنا


سوال

ہم جامعہ بنوری ٹاؤن کے فتوے کے مطابق اپنے آفس کی چھت پر فاصلے کے ساتھ  جمعہ کی جماعت کرا لیتے ہیں۔ ظہر اور دوسری نمازوں کی جماعت پہلے سے معمول میں ہیں۔ امام نے وفاق المدارس کا دراسات الدینیہ کا کورس کیا ہوا ہے۔ جمعہ کے لیے پہلی اذان کے بعد چار سنتیں پڑھ کے دوسری اذان اور دو مختصر خطبے وقفے کے ساتھ کرکے جماعت کرا لیتے ہیںَ۔ بقایا سنتیں زیادہ تر اپنی جگہوں پر جا کر ادا کرتے ہیں۔ کمپنی مینیجمینٹ نے اب تک ہمیں منع نہیں کیا۔ جماعت کے لوگ بڑھتے جارہےہیں۔

اب ایک صاحب کا کہنا یہ ہے کہ ہماری اس طرح نماز ہی نہیں ہوتی۔ ( غالباً حکومت کی ممانعت کی وجہ سے یا بعض علماء کے اختلاف کی وجہ سے جو جمعہ کے بجائے ظہر ادا کرنے کو کہتے ہیں )۔ واضح رہے کہ کمپنی نے رمضان میں جمعہ کی جماعت کا کل وقت 30 منٹ دیا ہے۔ اور ظہر کا 15 منٹ۔

سوال یہ ہے کہ:

1۔ کیا جامعہ بنوری ٹاؤن کا فتوی تبدیل ہو چکا ہے؟

2۔ کیا ہماری اس طرح جمعہ اور جماعت ہو جاتی ہے؟

3۔ ہماری پچھلی نمازیں ہو گئیں یا لوٹانی ہوں گی؟

4۔ آئندہ کے لیے  زیادہ بہتر کیا ہے؟ کیا جمعہ کی جماعت جاری رکھیں؟ یا ظہر کی جماعت کروائیں؟ یا انفرادی نماز پڑھیں؟ یہ اختیاری ہے یا لازم؟

5۔ جمعہ کے علاوہ دوسری نمازوں کی جماعت کروائیں یا نہیں؟ برائے مہربانی جلد جواب عنایت فرمائیں۔

جواب

1. ہمارے دارالافتاء کا فتویٰ موجودہ حالات میں وہی برقرار ہے جو اس سے قبل دیا جاچکا ہے ، اور وہ یہ ہے کہ:

اگر حکومت کی جانب سے باجماعت نمازوں پر پابندی لگادی جائے، یا جماعت کے افراد کو انتہائی محدود کردیا جائے کہ جس کی وجہ سے تمام لوگوں کے لیے  مساجد میں باجماعت جمعہ کی نماز کی ادائیگی ممکن نہ ہوتو  ایک طرف یہ کوشش جاری رکھنی چاہیے کہ  حکام کو اسلامی اَحکام کے بارے میں آگاہ کیاجائے اور ہر ممکن کوشش کی جائے کہ وہ یہ پابندی ہٹادیں،تاکہ لوگ جمعہ کی نماز مسجد میں مجمع کے ساتھ ادا کرسکیں۔ اور جب تک پابندی برقرار رہے تو خوفِ ظلم کی وجہ سے اور حرج کی نفی کے پیشِ نظر مسجد کی نماز چھوٹ جانے کا عذر معتبر ہے۔ ایسی صورت میں کوشش کی جائے کہ گھر  یا آفس وغیرہ پر ہی باجماعت نماز کا اہتمام ہو۔ اور جمعہ کی نماز میں چوں کہ مسجد کا ہونا شرط نہیں ہے؛ لہذا شہر، فنائے شہر یا بڑی بستی میں اگر امام کے علاوہ کم از کم تین بالغ مرد مقتدی ہوں اور ان کی طرف سے دوسرے لوگوں کو نماز میں شرکت کی ممانعت نہ ہو تو جمعہ کی نماز صحیح ہوجائے گی؛ لہذا جمعے کا وقت داخل ہونے کے بعد اذان دے کر سنتیں ادا کریں، پھر دوسری اذان دی جائے، اور امام خطبہ مسنونہ پڑھ کر دو رکعت نماز پڑھا دے،  چاہے گھر میں ہوں یا کسی اور جگہ جمعہ ہو کر پڑھ لیں۔

2.لہذاجب تک حکومت کی جانب سے مساجد میں پابندی یا افراد کی تعداد محدود کرنے کاحکم برقرار رہتا ہے آپ لوگوں کا کمپنی یا آفس کی چھت پر جمعہ کے دن مذکورہ طریقہ کے مطابق جب کہ کسی شخص کو جماعت میں شامل ہونےسے روکا  نہیں جاتا ،نماز جمعہ ادا کرنا جائز ہے۔اور جمعہ کی جماعت کروانا درست ہے۔

3.مذکورہ طریقے کے مطابق جو نمازیں آپ لوگوں نے اس سے پہلے ادا کی ہیں وہ ادا ہوگئی ہیں ،لوٹانے کی ضرورت نہیں ۔ شبہ میں پڑنے کی حاجت نہیں ۔

4.جمعہ  کی نماز کے صحیح  ہونے کی شرائط موجود ہونے کی صورت میں بغیر عذر کے جمعہ چھوڑ کر ظہر کی نماز پڑھنا درست نہیں، اور اگر کسی نے ظہر پڑھ ہی لی تو اس سے وقت کا فریضہ ساقط ہوجائےگا۔ اور اگر جمعہ کی شرائط مکمل نہ ہوں تو شہر، فنائے شہر یا بڑی بستی میں ظہر کی نماز تنہا ادا کی جائے گی، جمعہ کے دن شہر یا فنائے شہر میں ظہر کی نماز باجماعت ادا کرنا درست نہیں ۔

لہذا جب تک حکومتی پابندی برقرار ہو اور تمام افراد کا مسجد میں جاکر نماز جمعہ ادا کرنا ممکن نہ ہوتو کمپنی یاآفس کی چھت پر شرائط کی موجودگی میں نماز جمعہ کا ہی اہتمام کیاجائے۔

5.جب تک کمپنی کے افراد کا مسجد میں باجماعت ادا کرنا ممکن نہ ہو، دیگر نمازوں میں بھی  وہیں پر جماعت کا اہتمام کرنا ضروری ہے، اور مسجد میں جماعت نہ ملنے کی صورت میں آفس وغیرہ میں باجماعت نماز ادا کرنا تنہا پڑھنے سے زیادہ افضل ہے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109200860

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے