بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 جمادى الاخرى 1443ھ 29 جنوری 2022 ء

دارالافتاء

 

جمعہ کی نماز میں بھول سے اَذانِ اَوّل چھوڑنے کا حکم


سوال

  اگر  کسی مسجد  میں جمعہ کی پہلی اَذان دینا بھول گئے  تو  کیاجمعہ اَدا ہو جائےگا؟

جواب

واضح رہے کہ جمعہ کی دونوں اذانیں سنت ہیں،  دوسری اَذان حضور  علیہ السلام کے زمانہ سے مشروع اور معمول بہ ہے اور  پہلی اذان حضرت عثمان رضی اللہ کے زمانہ سے مشروع ہوئی اور تمام صحابہ اور اُمّت نے اس کو قبول کیا ،چناں  چہ دونوں ہی سنت کے حکم میں ہیں اور  ان کا قصدا ًچھوڑنا مکروہ ہے۔

لہذا صورتِ  مسئولہ میں بھول سے اَذانِ اَوّل کے بغیر جمعہ ادا کرنے سے جمعہ كي نماز ادا هوگئي ، اِعاده كي ضرورت نهيں هے،  البتہ اَذان کا چھوڑنا اپنی اصل کے اعتبار سے مکروہ فعل  کا ارتکاب ہوا،  لیکن نسیان اور  بھول کی وجہ سے اس كي  کراہت بھی زائل ہوگئی۔ 

 فتاوى  عالمگیری  میں ہے:

"و يكره أداء المكتوبة بالجماعة في المسجد بغير أذان و إقامة."

(کتاب الصلاۃ،  باب صلاۃ الجمعہ ، ج نمبر ۱ ص نمبر ۵۴،دار الفکر)

معارف السنن میں ہے:

" ثم هذا الاذان الذي زاده عثمان رضي الله عنه و ان لم يكن في عهد النبوة لكن لا يقال انه بدعة فانه من مجتهدات الخليفة الراشد. قال في العمدة... باجتهاد عثمان و موافقة سائر الصحابة له بالسكوت و عدم الانكار، فصار اجماعا سكوتيا.انتهي... على انه ورد في الحديث : "عليكم بسنتي و سنة الخلفاء الراشدين المهديين " فهذا يؤيد القول بانه ليس ببدعة... ثم في شرح الحديث قولان : فقيل ان سنة الخلفاء التي جرت فيهم وإن لم تكن في عهد النبوة فهي سنة، ولا يقال لها بدعة و قيل : المراد بسنتهم ما كان في الاصل من سنة النبي صلي الله عليه و سلم ولكنهما ظهرت علي ايديهم."

(باب فی اذان الجمعہ،  ج نمبر ۴،  ص نمبر ۳۹۸،ایچ ایم سعید)

فتاوی محمودیہ میں ہے:

"دونوں اذانیں سنت ہیں،دوسری اذان کے بعد دعا دل میں پڑھی جائے، زبان سے نہ پڑھی جائے۔"

(کتاب الصلاۃ،   باب صلاۃ الجمعہ،  ج نمبر ۸ ص نمبر ۲۹۸،جامعہ فاروقیہ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144212202104

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں