بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 شعبان 1445ھ 28 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

جمعہ کے علاوہ نیا لباس پہننے کی صورت میں حساب کتاب کا حکم


سوال

اگر ہم جمعہ کا علاوہ کسی اور دن نیا لباس پہنیں تو  اس کا حساب ہوگا؟

جواب

واضح رہے کہ احادیث میں   یہ بات نہیں مل سکی جس میں یہ صراحت ہو کہ جمعہ کے دن نیا لباس پہننے کی صورت میں حساب کتاب نہیں ہوگا، اور جمعہ کے علاوہ پہننے کی صورت میں حساب کتاب ہوگا۔  حساب  کتاب  کا  معاملہ اللہ کے ہاتھ میں ہے اور حساب کتاب ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ  احادیث یا قرآن کے ذریعہ ہی ہوسکتا ہے، اس کے بغیر نہیں ہوسکتا۔

البتہ  رسول اللہ ﷺ سے یہ منقول ہے کہ جب نیا لباس پہنتے تھے تو   عمومًا جمعہ کے دن پہنتے  تھے؛ لہذا اس کا اہتمام کرنا چاہیے۔

سبل الهدیٰ والرشاد  میں ہے:

"عن أنس رضي اللّٰه عنه قال: کان رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم إذا استجد ثوبًا لبسه یوم الجمعة."

( جماع أبواب سیرته ﷺ في لباسهج نمبر ۷ ص نمبر ۲۶۹،دار الکتب العلمیہ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144209201830

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں