بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 شعبان 1444ھ 22 مارچ 2023 ء

دارالافتاء

 

جمعہ یاشب برأت کی مبارک باد دینے کا حکم


سوال

جمعہ والے دن کسی کو جمعہ مبارک کہنا اسی طرح سے شب برأت میں شب برأت مبارک کہنا کیا بدعت ہے ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر جمعہ   یا شبِ برأت کی مبارک باد  دینے کو لازم سمجھا جائے، مبارک باد نہ دینے والوں کو برا کہا جائے یا سمجھا جائے یا اسے سنت کی طرح ثواب کا کام سمجھا جائے تو یہ بدعت ہوگا، بصورتِ دیگر یہ بدعت نہیں ہوگا، اور اس صورت میں بدعت اس لیے نہیں ہوگا کہ جمعہ کی مبارک باد کا مطلب جمعہ کے ِیا شبِ برأت  کے بابرکت ہوجانے کی دعا دینا ہے،اور برکت والے دن  یا برکت والی رات برکت کی دعا دینے میں (بذاتہ ) حرج نہیں ہے، لیکن جس طرح  اس کا رواج بنتا چلا جا رہا ہے ،ایسی صورت میں اس سے اجتناب کریں ، ہاں اپنی دعاؤں میں پوری امت کے لیے برکت کی دعائیں کریں  جو اصل مطلوب ہے ۔

مشکاۃالمصابیح میں ہے :

"إياكم ومحدثات الأمور فإن كل محدثة ‌بدعة وكل ‌بدعة ضلالة» . رواه أحمد."

(كتاب الاِيمان ،باب الاعتصام بالكتاب السنة ،ج،1 ،ص، 58 ،ط :دارالمعرفة)

فتح الباری میں ہے :

"المحدثه" والمراد بها ما أحدث، وليس له أصلٌ في الشرع ويسمي في عرف الشرع ’’بدعة‘‘، وما کان له أصل يدل عليه الشرع فليس ببدعة، فالبدعة في عرف الشرع مذمومة بخلاف اللّغة : فإن کل شيء أحدث علي غير مثال يسمي بدعة، سواء کان محمودًا أو مذمومًا".

(باب الاقتداء بسنن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم،ج، 13، ص، 253 ،ط: دار المؑرفة)

فتاوی شامی میں ہے :

"وكل مباح ‌يؤدي إلي  السنة اوالواجب فمكروه."

(باب صلاۃ المریض ،2 ،ص ،105 ،ط :سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144408100962

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں