بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1446ھ 15 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

جمعہ کی نماز سستی کی وجہ سے محلہ کی مسجد میں پڑھنے کے بجائے دوسری مسجد میں پڑھنا


سوال

ہمارے گھر کے قریب مسجد ہے جس میں جمعہ کی نماز 1:15 پر ہوتی ہے اور تھوڑے فاصلے پر  ایک اور مسجد ہے جہاں نماز جمعہ تقریباً 3 بجے کے قریب ہوتی ہے،  میرا بھائی جان بوجھ کر سستی کی وجہ سے قریب والی مسجد میں نماز ادا نہیں کرتا اور سویا رہتا ہے اور کہتا ہے میں وہاں نماز پڑھوں گا 3 بجے والی مسجد میں، میرا سوال یہ ہےکہ جان بوجھ کر جمعہ کی نماز دیر سے پڑھنے کا کیا حکم ہے؟ آیا  اس سے گناہ  ہوگا یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ محلہ کی مسجد میں اول وقت میں  جمعہ پڑھنا افضل ہے؛  لہذا صورتِ مسئولہ میں محلہ کی مسجد میں جمعہ  سستی اور کاہلی کی وجہ سے نہ پڑھنا اور جہاں دیر سے جماعت ہوتی ہو وہاں پڑھنا خلافِ اولی اور ناپسندیدہ ہے، البتہ اس کے باوجود جمعہ کی نماز ادا ہوجائیگی۔

فتاوی شامی میں ہے:

"والحاصل أن بعد القدس الجوامع: أي المساجد الكبيرة الجامعة للجماعة الكثيرة، لكن الأقدم منها أفضل كمسجد قبا، ثم الأعظم: أي الأكثر جماعة فالأعظم، ثم الأقرب فالأقرب. وفي آخر شرح المنية بعد نقله ما مر عن الأجناس: ثم الأقدم أفضل لسبقه حكما، إلا إذا كان الحادث أقرب إلى بيته فإنه أفضل حينئذ لسبقه حقيقة وحكما، كذا في الواقعات. وذكر في الخانية ومنية المفتي وغيرهما أن الأقدم أفضل، فإن استويا في القدم فالأقرب؛ ولو استويا فيهما وقوم أحدهما أكثر، فإن كان فقيها يقتدى به يذهب للأقل جماعة تكثيرا لها بسببه وإلا تخير. والأفضل اختيار الذي إمامه أفقه وأصلح، ومسجد حيه وإن قل جمعه ‌أفضل ‌من ‌الجامع وإن كثر جمعه اهـ ملخصا. وحاصله أن في تقديم الأقدم على الأقرب خلافا، لكن عبارة الخانية هكذا: وإذا كان في منزله مسجدان يذهب إلى ما كان أقدم إلخ. وظاهره أن هذا التفصيل في مسجد الحي تأمل (قوله أفضل اتفاقا) أي من الأقدم وما بعده لإحرازه فضيلتي الصلاة والسماع ط (قوله ومسجد حيه ‌أفضل ‌من ‌الجامع) أي الذي جماعته أكثر من مسجد الحي، وهذا أحد قولين حكاهما في القنية، و الثاني العكس؛ و ما هنا جزم به في شرح المنية كما مر، وكذا في المصفى والخانية، بل في الخانية: لو لم يكن لمسجد منزله مؤذن فإنه يذهب إليه ويؤذن فيه ويصلي ولو كان وحده لأن له حقا عليه فيؤديه."

(کتاب الصلاۃ، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، فروع أفضل المساجد، ج:1، ص:659، ط:ایچ ایم سعید کمپنی)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144511101450

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں