بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 جُمادى الأولى 1444ھ 29 نومبر 2022 ء

دارالافتاء

 

جس قرض کے واپس ملنے کی امید نہ اس پر زکات کا حکم


سوال

 ایک بندے نے اپنے بھاںٔی کے لئے  کسی ثالث سے قرض لیا اور اپنے بھاںٔی کو دے دیا اور دو لاکھ کی رقم ہے اس میں سے اس بندے نے ایک لاکھ کی رقم خود سے ادا کردی قرض خواہ کو، ایک لاکھ اب بھی باقی ہے اب اس کا بھاںٔی جب ادا کرے گا تو وہ ایک لاکھ اس کی ملکیت ہوگی تو کیا اس ایک  لاکھ کی رقم پر زکات واجب ہوگی اور بھاںٔی کی طرف سے اداںٔیگی کی فی الحال کوںٔی امید نہیں ہے۔

جواب

واضح رہے کہ اگر قرض دینے والے  کو اپنا قرض وصو ل ہونے کی امید نہ ہو یا وصول ہونے میں  تردد ہویامقروض ٹال مٹول کر رہا ہو یا انکار کر رہا ہو   اور اس کے خلاف گواہ یا دلائل نہ ہوں تو ایسے قرض کی زکاۃ وصول ہونے سے پہلے ادا کرنا لازم نہیں، بلکہ وصول ہونے کے بعد ادا کرنا لازم ہے،اور جتنا  قرض وصول ہوتا رہےگاصرف    اتنے مال کی زکاۃ  ادا کرنا لازم ہو گی،اور جو قرض باقی ہوگا اس کی زکاۃ کی ادائیگی بھی لازم نہیں ہوگی، اورجو قرض وصول ہوگا اس کی گزشتہ سالوں کی زکاۃ بھی اس پر واجب نہیں ہوگی ۔

لہذا صورتِ مسؤلہ میں مذکورہ شخص نے جو قرض اپنے بھائی کی طرف سے اس کے قرض خواہ کو لوٹایا ہے اگر اس کا بھائی  اس کا انکار کر رہاہے یا ٹال مٹول کر رہا ہے اور مذکورہ شخص  کو اس کے وصول ہونے کی امید بھی نہیں ہے تو مذکورہ شخص  پر اس مال کی وصولی سے پہلے اس مال کی زکاۃ ادا کرنا لازم نہیں ہے ،بلکہ جب وہ مال اس  کو مل جائے گا اس کے بعدڈھائی فیصد کے اعتبار سے  اس مال کی زکاۃ ادا کرنا لازم ہو گا ،نیز جب مذکورہ شخص  کو وہ مال وصول ہوگا تو اس مال کی گزشتہ سالوں کی زکاۃ بھی اس  پر واجب نہیں ہو گی، بلکہ جس وقت وہ مال ملے گا صرف اسی سال کی زکاۃ  کی ادا ئیگی  واجب ہوگی ۔

حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویایسے قرض کے سلسلے میں جس کے ملنے کی امید نہ ہو فرماتے ہیں:

الجواب:" اس میں اقوال مختلف ہیں اور ہر جانب تصحیح بھی کی گئی ہے، جس کی تفصیل رد المحتار، ج:۲، ص:۱۴، و ص:۹۹، مطبوعہ مصر میں موجود ہے، بندے کے نزدیک ان اقوال میں سے قول مختار یہ ہے کہ جس قرض کے وصول ہونے کی امید ضعیف ہو یا بالکل نہ ہو، قبل وصول اُس پر زکات واجب نہ ہوگی اور وصول کے بعد جس قدر وصول ہوگا، بعد حولان حول آئندہ صرف اسی قدر پر زکات واجب ہوگی"۔

"ومتمسکی فیہ ما في رد المحتار بعد نقل عبارة النہر عن الخانیة قولہ قلت، وقدمنا أول الزکاة اختلاف التصحیح فیہ، ومال الرحمتي الی ہذا وقال: بل في زماننا یقر المدیون بالدین و بملائتہ ولا یقدر الدائن علی تخلیصہ منہ، فہو بمنزلة العدم."

 (امداد الفتاوی :کتاب الزکاة، بعنوان: جس دین کے وصول کی امید نہ ہو، اُس پر وجوب زکات کی تحقیق، ج:2،ص: 63،  ط: زکریا، دیوبند)

بدائع الصنائع میں ہے:

"ومنها الملك المطلق...  فلا تجب الزكاة في المال الضمار عندنا خلافا لهما.وتفسير مال الضمار هو كل مال غير مقدور الانتفاع به مع قيام أصل الملك كالعبد الآبق والضال، والمال المفقود، والمال الساقط في البحر، والمال الذي أخذه السلطان مصادرة، والدين المجحود".

(کتاب الزکاۃ،فصل الشرائط التي ترجع إلي المال،ج:2،ص:9،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144309101092

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں