بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1446ھ 15 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

جوتے پہن کر نماز پڑھنا


سوال

 ایک مرتبہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا فرمارہے رہے تھے تو دورانِ نماز پیغمبر علیہ السلام نے اپنے جوتے اتار دیے، حضور کو دیکھا دیکھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی اتار دیے، اب پوچھنا یہ ہے کہ مذکورہ واقعہ حضور اور صحابہ نے جوتوں کے ساتھ نماز کسی عذر کی وجہ سے ادا کی یا بلا عذر صرف جواز کے لیے  ادا کی اور آج کل کوئی بغیر کسی عذر کے جوتوں کے ساتھ نماز پڑھ سکتا ہے؟ یہ سوال اس وجہ سے معلوم کرنا چاہ رہا ہوں کہ گزشتہ روز ایک شخص  کو دیکھا کہ جو بغیر عذر کے چپل کے ساتھ نماز ادا کر رہا تھا، مذکورہ حدیث کو دلیل کے طور پر پیش کر رہا تھا۔

جواب

جوتے اگر ایسے ہوں کہ سجدے میں وہ پیروں کی انگلیاں زمین پر لگنے سے مانع نہ ہوں اور ناپاک نہ ہوں ،تو ایسے جوتوں میں  اگر نماز پڑھ لی جائےنماز درست ہوجائے گی، اور یہ سنت کے طور پر نہیں تھا نفس جواز کے لیے ہے۔

البتہ آج کل عرفاً یہی مناسب ہے کہ جوتوں کے ساتھ نماز نہ پڑھی جائے ، کیوں کہ آج کل مساجد میں فرش اور قالین ہوتا ہے، جب کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں مسجدِ نبوی کا فرش کچا تھا، یعنی زمین پر چھوٹے چھوٹے سنگریزے بچھے ہوئے تھے، جب کہ موجودہ زمانے میں مساجد میں ماربل، ٹائل وغیرہ لگاکر، اس پر قالین وغیرہ بچھا کر انہیں صاف ستھرا رکھنے کا اہتمام کیا جاتاہے، گلی کوچوں سے لوگ جوتے پہن کر آئیں اور اسی حالت میں مسجد میں جوتوں میں نماز پڑھیں تو مسجد کی تلویث کا خطرہ رہے گا۔

تاہم اگر کسی جگہ جوتوں میں نماز پڑھنے کی ضرورت پیش آجائے تو جوتوں میں نماز پڑھنا مذکورہ بالا شرائط کے ساتھ درست ہے۔ (مستفاد:فتاویٰ محمودیہ، ج 15، ص 185، ط:فاروقیہ)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(قوله: وصلاته فيهما) أي في النعل والخف الطاهرين أفضل؛ مخالفةً لليهود، تتارخانية.

وفي الحديث: " «صلوا في نعالكم، و لاتشبهوا باليهود» رواه الطبراني كما في الجامع الصغير رامزًا لصحته. وأخذ منه جمع من الحنابلة أنه سنة، و لو كان يمشي بها في الشوارع؛ لأنّ النبي صلى الله عليه وسلم وصحبه كانوا يمشون بها في طرق المدينة ثم يصلون بها.

قلت: لكن إذا خشي تلويث فرش المسجد بها ينبغي عدمه وإن كانت طاهرةً. و أما المسجد النبوي فقد كان مفروشًا بالحصى في زمنه صلى الله عليه وسلم بخلافه في زماننا، و لعل ذلك محمل ما في عمدة المفتي من أن دخول المسجد متنعلًا من سوء الأدب، تأمل."

(کتاب الصلاة،باب مایفسد الصلاة ومایکرہ فیہا،فروع اشتمال الصلاة على الصماء والاعتجار والتلثم والتنخم وكل عمل قليل بلا عذر، ج1،ص657،ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144506100671

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں