بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 ذو الحجة 1443ھ 02 جولائی 2022 ء

دارالافتاء

 

جوائنٹ فیملی سسٹم میں والد کا بہو کے متعلق فیصلہ کرنا /بیوی کا میکہ جانا


سوال

 میں شادی شدہ ہوں اور جوائنٹ فیملی میں رہتا ہوں، اب مسئلہ یہ ہے کہ میری بیوی کے فیصلے میرے والد صاحب کرتے ہیں، اگر کہیں جانا ہے تو ان سے پوچھا جائے کتنے دن اپنے میکے رہ کر آئے گی ؟اس کا تعین والد کریں گے، تو آیا یہ جائز ہے یا نہیں؟

جواب

جوائنٹ فیملی سسٹم میں عموما گھر کے سربراہ والد یا ووالدہ ہوتے ہیں اور ان ہی  کے فیصلوں سے سارے  گھر کا انتظام چل رہا ہوتا ہے ،اس لیے اگر والد یا والدہ  اپنے بیٹے یا بہو کے متعلق ایسا فیصلہ کریں جس کا گھر کے انتظام سے تعلق ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔

البتہ بیوی  کا شوہر کی اجازت کے بغیر  گھر سےنکل کر اپنےمیکے جانا اور وہاں رات گزارنا جائز نہیں اور اگر شوہر نے میکے جاکر والدین سے ملنے کی اجازت تو دی ہے لیکن وہاں  رات گزارنے  کی اجازت نہیں دی تو بیوی پر لازم ہے کہ رات واپس اپنے گھر  لوٹ آۓ،  ورنہ خلاف ورزی کی صورت میں   بیوی   از روئے شرع نافرمان ہوگی ،اس میں سسر کی بات  / فیصلہ ماننا صحیح نہیں ہوگا ۔

باقی  شوہر کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہفتے میں ایک مرتبہ بیوی کے والدین سے اور سال میں کم از کم ایک مرتبہ اس کے محارم سے اس کی ملاقات کی اجازت دے، خواہ خود لے جاکر ملاقات کرائے یا  بیوی کو اپنی اجازت سے بھیج دے  یا بیوی کے والدین کو اپنے گھر ملاقات کا موقع دے دے۔ میاں بیوی کا رشتہ قانون سے زیادہ اخلاق سے چلتا اور پائے دار  رہتاہے، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنے گھروالوں (بیوی) کے ساتھ اچھا ہو، اور میں اپنے گھر والوں کے ساتھ تم سب سے زیادہ اچھا (سلوک کرنے والا) ہوں۔

وفي الفتاوى الهندية: 

"وإذا أراد الزوج أن يمنع أباها، أو أمها، أو أحدا من أهلها منالدخول عليه في منزله اختلفوا في ذلك قال بعضهم: لا يمنع من الأبوين من الدخول عليها للزيارة في كل جمعة، وإنما يمنعهم من الكينونة عندها، وبه أخذ مشايخنا - رحمهم الله تعالى -، وعليه الفتوى كذا في فتاوى قاضي خان وقيل: لا يمنعها من الخروج إلى الوالدين في كل جمعة مرة، وعليه الفتوى كذا في غاية السروجي وهل يمنع غير الأبوين عن الزيارة في كل شهر، وقال مشايخ بلخ في كل سنة وعليه الفتوى، وكذا لو أرادت المرأة أن تخرج لزيارة المحارم كالخالة والعمة والأخت فهو على هذه الأقاويل كذا في فتاوى قاضي خان وليس للزوج أن يمنع والديها وولدها من غيره وأهلها من النظر إليها وكلامها في أي وقت اختاروا هكذا في الهداية."

(كتاب الطلاق ,الباب السابع عشر في النفقات ,الفصل الثاني في السكنى,1/ 556ط:دارالفكر)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144311101070

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں