بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1444ھ 07 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

مشترکہ رہائش میں رہائش پذیر بہن بھائیوں پر قربانی کا حکم


سوال

میں گھر کا بڑا ہوں اور کاروبار، گھر کے اخراجات، بہن بھائیوں کا خرچ، پیسوں کا لین دین اور اس کے علاوہ تمام معاملات میں خود نبھاتا ہوں، مجھ سے چھوٹے دو بھائی ہیں جن کا کسی معاملے میں کوئی اختیار نہیں ہے، ایک بھائی شادی شدہ اور  دوسرا کنوارا ہے، اب قربانی ہم سب بھائیوں کو کرنی ہوگی یا صرف مجھے ہی کرنی ہوگی؟

 

جواب

صورتِ مسئولہ میں جس  بہن بھائی کی  ملکیت میں  عید الاضحٰی کے ایام میں نصاب کے بقدر سونا،چاندی یا نقدی  یا ضرورت و استعمال سے زائد سامان موجود  ہو  اس کے  ذمے قربانی کرنا واجب ہے، اب  اگر آپ ان کی اجازت سے ان کی طرف سے قربانی کر دیتے ہیں تو بھی ان کی طرف سے قربانی ادا  ہوجائے گی۔

اور جس بھائی یا بہن کے پاس نصاب کے بقدر سونا،چاندی یا نقدی  یا استعمال سے زائد سامان موجود نہ ہو اس کے ذمے شرعًا قربانی کرنا واجب نہیں ہے،تاہم اگر پھر بھی آپ ان کی طرف سے اپنا مال لگا کر  قربانی کرنا چاہیں تو ان کی اجازت سے ان کی طرف سے قربانی کر سکتے ہیں،  اس میں ثواب اور فضیلت حاصل ہوجائے گی۔

واضح رہے کہ  قربانی کے وجوب کے  لیے صاحبِ نصاب ہونے کا مطلب یہ ہے کہ عید الاضحٰی کے دنوں میں کسی شخص کے پاس  عید کے تیسرے دن تک واجب الادا اخراجات منہا کرنے کے بعد یا تو ساڑھے سات تولہ یا اس سے زیادہ سونا ہو، یا ساڑھے باون تولہ یا اس سے زیادہ چاندی ہو، یا ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر یا اس سے زیادہ نقدی  یا مالِ تجارت ہو، یا استعمال سے زائد کسی بھی قسم کا اتنا سامان موجود ہو جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہو، یا مذکورہ اموال میں سے بعض یا سب ملاکر اتنی مالیت کا مال موجود ہو جس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر یا اس سے زائد ہو تو ایسا شخص قربانی کے سلسلے میں صاحبِ نصاب سمجھا جائے گا، اور اس پر قربانی واجب ہوگی، اس نصاب پر سال گزرنا یا ضرورت سے زائد سامان میں تجارت کی نیت ہونا شرط نہیں ہوگی۔

فتاوی شامی میں ہے:

' وشرائطها: الإسلام والإقامة واليسار الذي يتعلق به) وجوب (صدقة الفطر)،

(قوله: واليسار إلخ) بأن ملك مائتي درهم أو عرضاً يساويها غير مسكنه وثياب اللبس أو متاع يحتاجه إلى أن يذبح الأضحية، ولو له عقار يستغله فقيل: تلزم لو قيمته نصاباً، وقيل: لو يدخل منه قوت سنة تلزم، وقيل: قوت شهر، فمتى فضل نصاب تلزمه. ولو العقار وقفاً، فإن وجب له في أيامها نصاب تلزم.'' (٦ / ٣١٢ )

فقط واللہ اعلم

 


فتوی نمبر : 144211201723

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں