بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 19 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

جوئے کے پیسے سے خریدے ہوئے گیذر كى استعمال کا حکم


سوال

اگرکسی کے گھرمیں کچھ سامان (جیسے گیزر)اس کے والدکی طرف سے ہواوروہ شخص جانتاہےکہ وہ جوے کے پیسے خریداگیاتھا۔ کیا یہ شخص اس کا استعمال ترک کردے۔

جواب

مال حرام سود،جوااوررشوت وغیرہ کا حکم یہ ہے کہ اس رقم کواصل مالکان معلوم ہونے کی صورت میں حرام طریقہ سے حاصل شدہ اشیاء اصل مالکان کو لوٹادی جائیں اوراگراصل مالکان کولوٹانا ناممکن نہ ہوتو بلانیتِ ثواب فقراء میں تقسیم کردی جائیں،اس لیے سائل کے گھر میں جوے کے پیسوں کا جوگیزرہے اس کا استعمال سائل کے لیے جائز نہیں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143101200489

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے