بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 شعبان 1445ھ 23 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

جو کچھ بھی ہمیں ملا ہے یہ آپﷺ اور آپ ﷺ کی آل کے صدقے سے ملا ہے اس کے بارے میں حکم


سوال

جو کچھ بھی ہمیں ملا ہے یہ آپﷺ اور آپ ﷺ کی آل کے صدقے سے ملا ہے، کیا یہ کہنا درست ہے یا اس بارے کیا حکم ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل نے جن کلمات کے متعلق سوال کیا ہے،  یعنی جو کچھ بھی ہمیں ملا ہے یہ آپﷺصدقے سے ملا ہے،ان کلمات کا مضمون روایات سے ثابت ہے،  البتہ  یہ کلمات  کہ  آپ ﷺ کی آل کے صدقے سے ملا ہے، اس کو   تلاش  بسیار کے باوجوداس کا کوئی حوالہ نہیں ملا ۔

اس بارے میں اکابرین کے ارشادات ملاحظہ ہوں:

محدث العصر حضرت علامہ محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ حدیث ’’لولاک‘‘ سے متعلق لکھتے ہیں:

ابھی یاد آیا کہ ماہِ رمضان کے کسی پرچہ میں سائل نے حدیث '' لولاک لما خلقت الأفلاک'' پر ’’اتفاقی موضوع‘‘ ہونے کا حکم لگایا تھا، اسنادی حیثیت سے قطع نظر کر کے آپ نے جو توجیہ فرمائی تھی، وہ پسند آئی تھی، اُس وقت خیال آیا کہ حدیث مذکور سے متعلق کچھ عرض کردیا جائے، لیکن یاد نہیں رہا، آج یاد آنے پر اجمالاً اتنا عرض کیے دیتا ہوں کہ بالکل یکطرفہ فیصلہ نہ ہو، اور کسی قدر اسنادی اعتبار سے بھی حقیقت سامنے رہے۔
1- ''لولاک لما خلقت الأفلاک‘‘ کے لفظ سے تو حدیث نہیں ہے، البتہ اس کے ہم معنی الفاظ سے کتبِ حدیث میں موجود ہے:
الف: ۔۔۔۔۔ مستدرک حاکم، جلد:۲، ص:۶۱۵ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت ہے:''قال: أوحی اللّٰہ إلٰی عیسٰی: یا عیسی! آمن بمحمد وأمر من أدرکتہ من أمتک أن یؤمنوا بہ، فلولامحمد ما خلقت آدم ولولا محمد ما خلقت الجنۃ ولا النار.'' 
حاکم ابو عبد اللہ روایت کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ''ہذا حدیث صحیح الإسناد ولم یخرجاہ.'' حافظ ذہبیؒ اگرچہ فرماتے ہیں: '' أظنہٗ موضوعاً علٰی سعید،''لیکن کوئی وجہ اپنے گمان کی تائید میں بیان نہیں فرماسکے۔
حافظ تقی الدین سبکیؒ اپنی کتاب ’’شفاء السقام‘‘ میں اور شیخ سراج الدین بلقینیؒ اپنے فتاویٰ میں حافظ ابو عبداللہ حاکمؒ کی تائید میں اس کی تصحیح فرماتے ہیں:''ومثلہٗ لایقال رأیًا فحکمہ الرفع.''
ب:۔۔۔۔۔ نیز مستدرک حاکم، ج:۲، ص:۶۱۵میں اور مجمع الزوائد ج:۸، ص: ۲۵۳ میں بحوالہ طبرانی حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کا ایک طویل اثر ہے، جس میں حضرت آدم علیہ السلام کو یوں خطاب ہواہے: ’’ولولا محمد ما خلقتک‘‘ حاکم نے اس کی بھی تصحیح فرمائی ہے، اس میں عبد الرحمن بن زید بن اسلم راوی ضعیف ہے، موضوع ہونے کا حکم پھر بھی مشکل ہے، عبد الرحمن بن زید ترمذی ، ابن ماجہ کے رجال میں سے ہے۔
ج:۔۔۔۔۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ایک اثر ’’زرقانی شرح مواہب‘‘ میں ہے:''إن اللّٰہ قال لنبیہٖ من أجلک أسطح البطحاء وأموج الموج وأرفع السماء وأجعل الثواب والعقاب.''

(ماہنامہ بینات، ص:۱۱-۱۲، تاریخ اشاعت: جمادی الاولیٰ ۱۴۳۸ھ)

فتاویٰ محمودیہ میں ہے:

’’سوال:''لولاک لما خلقت الأفلاک'' اور '' لولاک لما خلقت الدنیا''ان دونوں میں سے کس کے الفاظ صحیح ہے، حدیث پاک کی کس کتاب میں مذکور ہے؟
الجواب حامدًا ومصلیًا: ’’لولاک لما خلقت الأفلاک‘ کو حضرت تھانویؒ نے امداد الفتاویٰ میں (۳/۹۰) اور مولانا شاہ عبدالعزیزؒ نے فتاویٰ عزیزی (۴/۱۲۹) میں موضوع لکھا ہے، علامہ شوکانیؒ نے ’’الفوائد المجموعۃ في الأحادیث الموضوعۃ‘‘ ص:۱۰۸ میں موضوع بتایا ہے، لیکن ملا علی قاریؒ نے موضوعاتِ کبریٰ (ص:۷۰) میں تحریر فرمایا ہے:
’’لولاک لما خلقت الأفلاک، قال الصنعاني: ’’موضوع‘‘ کذا في الخلاصۃ، لٰکن معناہ صحیح، قد روی الدیلمي عن ابن عباسؓ مرفوعًا: أتاني جبرئیلؑ، فقال: یا محمد! لولاک لما خلقت الجنۃ، لولاک لما خلقت النار، وفي روایۃ ابن عساکر: لولاک لما خلقت الدنیا۔‘‘
اس سے معلوم ہوا کہ اس کے الفاظ موضوع ہیں، مگر معنی صحیح ہے، اس عبارت سے حدیث'' لولاک لما خلقت الدنیا،''کا حال بھی معلوم ہوگیا کہ ابن عساکر نے اس کو روایت کیا ہے۔

(ما یتعلق بالحدیث النبوی،ج:4،ص:84، 85،ط:ادارہ الفاروق کراچی)

فقط و اللہ اعلم


فتوی نمبر : 144412101393

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں