بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

جو کمپنی حرام کاروبار کرتی ہو اس میں سرمایہ کاری کرنا


سوال

میں ہندوستان میں رہتا ہوں، اور ہم یہاں   اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرتے ہیں،یہاں کچھ کمپنیاں ایسی ہیں، جن میں حلال پراڈکٹس  بنتی ہیں، مگر کچھ حرام پراڈکٹس بھی تیار کی  جاتی ہیں، البتہ یہ کمپنیاں دونوں پراڈکٹس کی الگ الگ کمائی اپنی رپورٹ میں نہیں بتاتی ہیں، ایسے وقت ہم اس کمپنی کے شیئر خریدنے کے لیے یہ طریقہ اپناتے ہیں کہ ہم ان کی ساری پروڈکٹس کو دیکھتے ہیں، پراڈکٹس کو دیکھ کر اگر ہماراغالب گمان یہ ہوتا ہے کہ ان کی حرام پراڈکٹس کی کمائی پانچ فیصد سے کم ہے،تو ایسی صورت میں  ہم ان کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں ، اور اگر ہمارا ظنِ غالب یہ ہوتا ہے کہ  مذکورہ کمپنیوں کی حرام پراڈکٹس پانچ فیصد سے زائد ہیں، یا حرام پراڈکٹس کی آمدنی پانچ فیصد سے کم  یا زیادہ ہونے میں ہمیں شک ہوتا ہے، تو  پھرہم ان کمپنیوں میں انویسٹ کرنے سے پرہیز کرتے ہیں، مطلب جن کمپنیوں کی حرام اور حلال دونوں پراڈکٹس کی الگ الگ آمدنی ان کی رپورٹ سے معلوم نہیں ہوتی ، اس میں ہم  اپنےظنِ غالب کا استعمال کرکے اس کے مطابق عمل کرتے ہیں ۔

سوال یہ ہے کہ کیا  ہمارا یہ طریقۂ کار  صحیح ہے؟ اگر صحیح ہےتو برائے کرم تائید فرمائیں، اور اگر ہمارا طریقۂ کار غلط ہے تو برائے مہربانی ہمیں صحیح طریقے کی طرف بالدلیل راہ نمائی فرمائیں ۔

جواب

سورتِ مسئولہ میں حرام مصنوعات والا کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرنا شرعاً جائز نہیں ہے،اگرچہ حرام مصنوعات کا حجم حلال مصنوعات کے مقابلے میں کمتر ہی  کہیں نہ ہو، کیوں کہ جس طرح حرام سے بچنا ضروری ہے، اس طرح حرام کی آمیزش سے بھی بچنا ضروری ہے ۔

مشكاة المصابيح میں ہے:

"وعن ابن عمر قال: من اشترى ثوبا بعشرة دراهم ‌وفيه ‌درهم ‌حرام لم يقبل الله له صلاة ما دام عليه ثم أدخل أصبعيه في أذنيه وقال صمتا إن لم يكن النبي صلى الله عليه وسلم سمعته يقوله. رواه أحمد والبيهقي في شعب الإيمان."

(باب الكسب وطلب الحلال، ج:2، ص: 849، ط: المكتب الإسلامي)

ترجمه:" حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص مثلا ایک کپڑا دس درہم میں خریدے اور ان میں ایک درہم بھی حرام مال کا ہو تو اللہ تعالی اس وقت تک اس شخص کی نماز نہیں قبول کرے گا جب تک کہ آدمی کے جسم پر وہ کپڑا ہو گا ،اس کے بعد حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی( شہادت کی )دونوں انگلیاں اپنے کانوں میں ڈالے اور کہا کہ یہ دونوں کان بہرے ہو جائے اگر میں نے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے نہ سنا ہو ۔"

(مظاہر حق، ج:3، ص:53، ط: داراشاعت)

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں ہے:

"وعن النعمان بن بشير - رضي الله عنهما - قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " «الحلال بين والحرام بين، وبينهما مشتبهات لايعلمهن كثير من الناس، فمن اتقى الشبهات استبرأ لدينه وعرضه، ومن وقع في الحرام كالراعي يرعى حول الحمى يوشك أن يرتع فيه، ألا وإن لكل ملك حمى، ألا وإن حمى الله محارمه، ألا وإن في الجسد مضغة إذا صلحت صلح الجسد كله، وإذا فسدت فسد الجسد كله، ألا وهي القلب» ". متفق عليه."

(باب الكسب وطلب الحلال، ج:5، ص:1891، ط:دار الفكر.بيروت)

فقه المعاملات میں ہے:

"يشترط في الموكل به - لصحة الوكالة - ثلاثة شروط:

(أحدها) أن يكون إتيانه سائغًا شرعًا.

وعلى ذلك فلايصح التوكيل بالعقود المحرمة والفاسدة والتصرفات

المحظورة شرعًا؛ لأنّ الموكل لايملكه، فلايصحّ أن يفوضه إلى غيره، و لأن التوكيل نوع من التعاون، و التعاون إنما يجوز على البر والتقوى لا على الإثم والعدوان."

(کتاب الوكالة، المؤكل به، ج:1، ص:1067)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144502100603

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں