بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1445ھ 13 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

جس شخص کو الرجی ہو اس کے لیے اعتکاف میں نہانے کا حکم


سوال

اگر اعتکاف میں غسل نہیں کر سکتے تو دس دن گرمی میں  پسینہ بھی آتا ہے،  کچھ لوگوں کو الرجی وغیرہ بھی  پسینہ سے بو بھی آتی، پھر کسی کو الرجی ہو، سر میں دانے نکلتے ہوں روز نہ دھونے سے، وہ کیا کرے اس صورت میں؟

جواب

مسنون اعتکاف میں گرمی کی وجہ  سے مسجد سے باہر نکل کر معتکف کے لیے ٹھنڈک حاصل کرنے کے لیے غسل کرنا جائز نہیں ہے، اس سے اعتکاف فاسد ہوجائے گا، اگر گرمی کی وجہ سے کثرت سے پسینہ آتا ہو اور  غسل کی شدید ضرورت ہو تو  مسجد میں بڑا برتن رکھ کر اس میں بیٹھ کر غسل کرلے اس طور پر کہ  استعمال کیا ہوا پانی  مسجد میں بالکل نہ گرے، یا تولیہ بھگو کر نچوڑ کر  بدن پر مل لے، اس سے بھی ٹھنڈک حاصل ہوجائے گی۔ اس سلسلے میں  مسجد انتظامیہ پورٹ ایبل واش روم کا انتظام بھی کرسکتی ہے کہ اسے مسجد کے اندر رکھ دیا جائے اور پانی مسجد سے باہر گرے، لیکن شدید ضرورت کے بغیر اس کے استعمال کی عادت نہیں بنانی چاہیے۔ اور جہاں مسجد کے آداب اور تقدس کے پامال ہونے کا اندیشہ ہو وہاں پورٹ ایبل واش روم سے بھی اجتناب کیا جائے۔

حاصل یہ ہے کہ   ٹھنڈک کے لیے غسل کی نیت سے مسجد سے باہر جانا معتکف کے لیے جائز نہیں ہے، ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ جب پیشاب کا تقاضا ہو تو پیشاب کے ارادے سے باہر نکل کر قضاءِ حاجت سے فارغ ہو کر وہیں غسل خانے میں دو چار لوٹے بدن پر ڈال لے، جتنی دیر میں وضو ہوتا ہے اس سے بھی کم وقت میں بدن پر پانی ڈال کر آجائے، الغرض غسل کی نیت سے مسجد سے باہر جانا جائز نہیں، طبعی ضرورت کے لیے جائیں تو بدن پر پانی ڈال سکتے ہیں۔ لیکن اس دوران  صابن وغیرہ کے استعمال کی اجازت نہیں ہے، کیوں کہ اس میں وضو سے زیادہ وقت صرف ہوگا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 446):

"وفي البدائع وما روي عنه صلى الله عليه وسلم من الرخصة في عيادة المريض وصلاة الجنازة، فقد قال أبو يوسف: ذلك محمول على اعتكاف التطوع، و يجوز حمل الرخصة على ما لو خرج لوجه مباح كحاجة الإنسان أو الجمعة وعاد مريضًا أو صلى على جنازة من غير أن يخرج لذلك قصدًا وذلك جائز اهـ".

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144109202906

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں