بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

جس شخص کے پاس دو تولہ سونا اور تینتیس ہزار روپے ہوں اس پر قربانی واجب ہے


سوال

میرے پاس دو تولے سونا اور 33  ہزار روپے نقد ہیں،  کیا مجھ پر قربانی واجب ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ قربانی واجب ہونے کا نصاب وہی ہے جو صدقۂ فطر کے واجب ہونے کا نصاب ہے، یعنی جس عاقل، بالغ ، مقیم ، مسلمان  مرد یا عورت کی ملکیت میں قربانی کے ایام میں قرض کی رقم منہا کرنے بعد ساڑھے سات تولہ سونا، یا ساڑھے باون تولہ چاندی، یا اس کی قیمت کے برابر رقم ہو،  یا تجارت کا سامان ہو، یا ضرورت سےزائد اتنا سامان  موجود ہو جس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو، یا ان میں سے کوئی ایک چیز یا ان پانچ چیزوں میں سے بعض کا مجموعہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر  ہوتو ایسے مرد وعورت پر قربانی واجب ہے، نیز قربانی  واجب ہونے کے لیے نصاب کے مال ، رقم، یا ضرورت سے  زائد سامان پر،  سال گزرنا بھی شرط نہیں ہے، اور تجارتی ہونا بھی شرط نہیں ہے، ذوالحجہ کی بارہویں تاریخ کے سورج غروب ہونے سے پہلے  اگر نصاب کا مالک ہوجائے تو ایسے شخص پر قربانی  واجب ہے۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں جب  سائل کے پاس دو تولہ سونا اور تینتیس ہزار (33000) روپے ہیں، تو سائل پر قربانی واجب ہے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"وشرعا (ذبح حيوان مخصوص بنية القربة في وقت مخصوص. وشرائطها: الإسلام والإقامة واليسار الذي يتعلق به) وجوب (صدقة الفطر) كما مر (لا الذكورة فتجب على الأنثى) خانية.

وقال عليه في الرد: (قوله وشرائطها) أي شرائط وجوبها، ولم يذكر الحرية صريحا لعلمها من قوله واليسار، ولا العقل والبلوغ لما فيها من الخلاف كما يأتي، والمعتبر وجود هذه الشرائط آخر الوقت وإن لم تكن في أوله كما سيأتي.

(قوله واليسار إلخ) بأن ملك مائتي درهم أو عرضا يساويها غير مسكنه وثياب اللبس أو متاع يحتاجه إلى أن يذبح الأضحية."

(كتاب الأضحية، ٦/ ٣١٢، ط: سعيد)

وفيه أيضا:

"(نصاب الذهب عشرون مثقالا والفضة مائتا درهم ... (واللازم) مبتدأ (في مضروب كل) منهما (ومعموله ولو تبرا أو حليا مطلقا) مباح الاستعمال أو لا ولو للتجمل والنفقة؛ لأنهما خلقا أثمانا فيزكيهما كيف كانا (أو) في (عرض تجارة قيمته نصاب) الجملة صفة عرض وهو هنا ما ليس بنقد،  (من ذهب أو ورق) أي فضة مضروبة، فأفاد أن التقويم إنما يكون بالمسكوك عملا بالعرف (مقوما بأحدهما) إن استويا، فلو أحدهما أروج تعين التقويم به؛ ولو بلغ بأحدهما نصابا دون الآخر تعين ما يبلغ به، ولو بلغ بأحدهما نصابا وخمسا وبالآخر أقل قومه بالأنفع للفقير سراج (ربع عشر) خبر قوله اللازم."

(كتاب الزكاة، باب زكاة المال، ٢ / ٢٩٩، ط: سعيد)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144412100488

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں