بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 صفر 1443ھ 16 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

جس شخص کو بالکل نمازنہیں آتی تو امام کے ساتھ پڑھنے کا حکم/ کیا امام کا سلام مقتدی کے لیے کافی ہوگا؟


سوال

ایک شخص کو نماز بالکل نہیں آتی ، جماعت کے ساتھ جب پڑھے گا، اللّٰه اکبر کہہ کر کھڑا ہو جاۓ، باقی جیسے امام کرتا جاۓ ویسے وہی شخص کرے،  تو کیا نماز ہو جاۓ گی؟  اور  ہاں کیا سلام پھیرتے ہوۓ مقتدی شخص کو السلامُ علیکم و رحمۃ اللّٰہ  لفظ کہنا ضروری ہو گا   یا صرف امام ہی کہہ دے کافی ہے ؟

جواب

(1)  بصورتِ مسئولہ اگر مذکورہ شخص کو نماز نہیں آتی، تو نماز سیکھنے  کی بھرپور کوشش کرے، کیوں کہ نماز اسلام کا بنیادی رکن ہے،  اور  حدیث شریف میں ہے مسلمان سے مرنے کے بعد پہلے نماز کے بارے میں بازپرس ہوگی،  البتہ  پنچ وقتہ نمازیں امام کے ساتھ پڑھنے سے چوں کہ قراءت کرنا امام کے ذمہ ہے، اس وجہ سے امام کے ساتھ  نماز پڑھنے سے ذمہ فارغ ہوجائےگا۔

(2)  امام کے سلام پھیرتے وقت مقتدی کا الفاظِ  سلام کہنا یا کوئی منافی نماز فعل کرنا  واجب ہے،  محض امام کے الفاظِ  سلام مقتدی کے لیے کافی نہیں ہوں گے؛ لہٰذا مذکورہ شخص امام کے ساتھ سلام کے الفاظ دہرالے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"ولايخرج المؤتم بنحو سلام الإمام بل بقهقهته وحدثه عمدا لانتفاء حرمتها فلايسلم؛ (قوله ولا يخرج المؤتم) أي عن حرمة الصلاة فعليه أن يسلم، حتى لو قهقه قبله انتقض وضوءه، وهذا عندهما خلافًا لمحمد.

(قوله: بنحو سلام الإمام إلخ) أي مما هو متمم لها لا مفسد، فإنه لو سلم بعد القعدة أو تكلم انتهت صلاته ولم تفسد، بخلاف القهقهة أو الحدث العمد لانتفاء حرمة الصلاة به لأنه مفسد للجزء الملاقي له من صلاة الإمام فيفسد مقابله من صلاة المؤتم، لكنه إن كان مدركا فقد حصل المفسد بعد تمام الأركان فلا يضره كالإمام، بخلاف اللاحق أو المسبوق.

(قوله: عمدًا) أما لو كان بلا صنعه فله أن يبني فيتوضأ ثم يسلم ويتبعه المؤتم."

(كتاب الصلوة، واجبات الصلوة، آداب الصلوة، ج:1، ص:525، ط:ايج ايم سعيد)

فقط والله اعلم 


فتوی نمبر : 144207201470

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں