بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 شوال 1445ھ 21 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

جس پائپ میں کوئی نجاست نہ ہو اس کو بغیر دھوئے پانی بھرنے کا حکم


سوال

باتھ روم میں نل کے ساتھ ڈرم بھرنے کےلیے جو پائپ باندھ دیا جاتا ہے، اس کو بغیر دھوئے ڈرم بھر سکتے ہیں؟جب کہ پائپ پر کوئی ظاہری نجاست بھی نہ ہو۔

جواب

بصورتِ مسئولہ اگرپائپ کے اندرونی حصہ میں واقعۃً کوئی ظاہری نجاست نہ لگی ہوئی ہو،تو اس کو بغیردھوئے ڈرم بھرنے سے پانی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا،نیز اگر پائپ کے ظاہری حصہ پر بھی کوئی نجاست نہ لگی ہوئی ہو تو اس کو ڈرم میں ڈال کربھی ڈرم بھرجاسکتا ہے۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"ولو وقعت نجاسة في الماء القليل، فالماء القليل لا يخلو من أن يكون في الأواني أو في البئر أو في الحوض الصغير، فإن كان في الأواني فهو نجس كيفما كانت النجاسة متجسدة أو مائعة؛ لأنه لا ضرورة في الأواني لإمكان صونها عن النجاسات، حتى لو وقعت بعرة أو بعرتان في المحلب عند الحلب، ثم رميت من ساعتها لم ينجس اللبن، كذا روى عنه خلف بن أيوب، ونصير بن يحيى ومحمد بن مقاتل الرازي، لمكان الضرورة."

(ص:٧٤،ج:١،کتاب الطهارة،فصل في بيان المقدار الذي يصير به المحل نجسا،ط:دار الكتب العلمية)

المحيط البرهاني  میں ہے:

"يجب أن يعلم أن الماء الراكد إذا كان كثيرا فهو بمنزلة الماء الجاري لا يتنجس جميعه بوقوع النجاسة في طرف منه إلا أن ‌يتغير لونه أو طعمه أو ريحه. على هذا اتفق العلماء وبه أخذ عامة المشايخ، وإذا كان قليلا فهو بمنزلة الحباب والأواني يتنجس بوقوع النجاسة فيه وإن لم تتغير إحدى ‌أوصافه. وقال مالك: لا يتنجس ما لم تتغير إحدى ‌أوصافه. وقال الشافعي رحمه الله: فيما دون القلتين مثل قولنا، وإذا بلغ قلتين وزيادة مثل قول مالك."

(ص:٩٢،ج:١،کتاب الطهارة،‌‌الفصل الرابع،ط:دار الكتب العلمية)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144507100050

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں