بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 20 جنوری 2021 ء

دارالافتاء

 

جس کا عقیقہ نہ ہوا ہو کیا وہ خود اپنا عقیقہ کر سکتا ہے؟


سوال

ایک شخص کے والد نے اس کاعقیقہ کیا ہے کہ نہیں اس کایقینی علم نہیں ہے، اب وہ شخص دوبارہ اپنا عقیقہ کرسکتا ہے؟

 کیا ایک بار عقیقہ ہوجانے کے بعد دوبارہ عقیقہ کیا جاسکتا ہے؟

اس جانور میں کسی بیمار کی طرف سے شفایابی کے نفلی صدقہ کا حصہ رکھنا بہتر ہے یا پورے جانور کو عقیقہ کے لیے محدود کرنا بہتر ہے؟

جواب

1- صورتِ مسئولہ میں بچہ/ بچی کی بلوغت سے   قبل تک والد کو اولاد کا عقیقہ کرلینا چاہیے، البتہ بلوغت کے  بعد موت سے قبل تک اگر کوئی شخص (جس کا عقیقہ والد نے نہ کیا ہو) اپنا عقیقہ کرنا چاہے تو کرسکتا ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ شخص کا عقیقہ نہیں ہوا ہے تو وہ خود اپنا عقیقہ کر سکتا ہے، تاہم اس عقیقہ میں اس کو گنجا ہونے کی ضرورت نہیں۔

2- ایک بار عقیقہ ہوجانے کے بعد پھر عقیقہ کرنا احادیث میں منقول نہیں، البتہ ایسا شخص اگر صاحبِ حیثیت ہو تو اسے قربانی کرنی چاہیے، نیز نفلی صدقہ کے طور پر بھی جانور ذبح کر سکتا ہے۔

3- بڑا جانور ہو تو اس میں بعض حصے عقیقے کے اور بعض نفلی صدقے کے طور پر رکھ سکتے ہیں، البتہ عقیقہ کے چھوٹے جانور میں ایک سے زائد نیت کرنا درست نہیں؛ لہٰذا عقیقہ کرنا ہو تو صرف عقیقے کی نیت کی جائے۔

باقی جان کے بدلے جان کے نظریے کے تحت جانور ذبح نہیں کرنا چاہیے۔ مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

’’زندہ جانور صدقہ کردینابہتر ہے، شفائے مریض کی غرض سے ذبح کرنا اگر محض لوجہ اللہ (رضائے الہی کے لیے) ہوتومباح تو ہے ، لیکن اصل مقصد بالاراقۃ (خون بہانے سے )صدقہ ہوناچاہیے نہ کہ فدیہ جان بجان‘‘۔(8/252)

العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامديةمیں ہے:

" ووقتها بعد تمام الولادة إلى البلوغ، فلا يجزئ قبلها، وذبحها في اليوم السابع يسن، والأولى فعلها صدر النهار عند طلوع الشمس بعد وقت الكراهة ؛ للتبرك بالبكور".

( كتاب الشرب، ٢/ ٢١٣، دار المعرفة)

المنهاج القويم شرح المقدمة الحضرمية  لابن حجر الهيتمي میں ہے:

ووقتها من الولادة" بالنسبة للموسر عندها "إلى البلوغ" فإن أعسر نحو الأب في السبعة لم يؤمر بها إن أيسر بعد مدة النفاس وإلا أمر بها. "ثم" بعد البلوغ يسقط الطلب عن نحو الأب والأحسن حينئذ أنه "يعق عن نفسه" تداركًا لما فات وخبر أنه صلى الله عليه وسلم عق عن نفسه بعد النبوة باطل وإن رواه البيهقي."

( باب الأضحية، فصل: طفي العقيقة"، فصل: "في العقيقة" ، ص: ٣١٠، ط: دار الكتب العلمية)

  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144203201109

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں