بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 جُمادى الأولى 1444ھ 04 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

جس جانور کو بذریعہ انجکشن حاملہ کیا گیا ہو اس کے دودھ اور گوشت کا حکم


سوال

جانوروں کوحمل کا انجکشن دینےسے کیا ان کاگوشت اوردودھ استعمال کرنا حرام ہوجاتاہے؟

جواب

اگر کسی حلال مؤنث جانور کے رحم میں مادہ منویہ بذریعہ انجکشن داخل کیاجائے تو اس سے یہ جانور حرام نہیں ہوتا، ایسے جانور کا دودھ اورذبح کے بعد اس کا گوشت استعمال کرنا جائز ہے۔نیز انجکشن کے ذریعہ حمل کی صورت میں پیدا ہونے والا بچہ اپنی ماں کے تابع ہوگا ، اگر بچے کی ماں حلال جانوروں (مثلاًگائے ، اونٹنی ، بکری وغیرہ )میں سے ہے تو یہ بچہ حلال شمار ہوگا۔

جانور اپنی ماں کے تابع ہوتے ہیں؛ لہذا انجیکشن وغیرہ کے ذریعے مادہ منویہ حلال جانور (مثلاً گائے ، اونٹ، بکرا وغیرہ)  کی مادہ میں داخل کیا جائے اور اس سے بچہ پیدا ہوتو ایسے جانور کی قربانی جائز ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"فإن كان متولداً من الوحشي والإنسي، فالعبرة للأم، فإن كانت أهليةً تجوز وإلا فلا."

(الباب الخامس فی بیان محل اقامۃ الواجب،ج: 5،ص:297،ط:رشیدیہ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144308102256

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں