بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو الحجة 1441ھ- 08 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

جنس تبدیل کرنا


سوال

سرجری کرکے عورت کا اپنی جنس تبدیل کرنا اور مرد بننا حلال ہے یا حرام؟

جواب

کسی  مرد یا عورت کا اپنی جنس کو بذریعۂ  آپریشن تبدیل کردینا ناجائز اور ملعون عمل ہے، یہ اللہ تعالیٰ کی خلقت وبناوٹ کو بدلنا، فطرت سے بغاوت کرنا، مذموم وشیطانی حرکت کا ارتکاب کرنا، اور تخلیقِ الٰہی کو چیلنج کرنا ہے، شریعتِ اسلامیہ میں اس کی اجازت نہیں ۔

 قرآنِ کریم میں ہے:

{فِطْرَتَ الله الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْها لا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ الله} [سورۃ الروم:۳۰]

’’اللہ کی فطرت پر قائم رہو، جس پر اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے، اس کی خلقت میں کوئی تبدیلی نہیں‘‘.

"عن عبد الله بن مسعود قال:’’لعن الله الواشمات والمستوشمات، والنامصات والمتنمصات، والمتفلجات للحسن، المغیرات خلق الله‘‘.(کتاب اللباس والزینۃ ، باب تحریم فعل الواصلۃ والمستوصلۃ ،ج:۲، ص:۲۰۵، ط:قدیمی) فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144110200572

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں